واشنگٹن ڈی سی میں فائرنگ کے بعد نیشنل گارڈ کی جوان سارہ بیکسٹروم جاں بحق

صدر ٹرمپ کا اعلان

واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب ہونے والے نشانہ بند حملے میں زخمی ہونے والی دو نیشنل گارڈ فوجیوں میں سے ایک کی موت ہو گئی ہے جبکہ دوسرا فوجی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی رات امریکی فوجیوں کے ساتھ تھینکس گیونگ کال کے دوران یہ اعلان کیا۔

شہید فوجی کی تفصیلات

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ 20 سالہ سارہ بیکسٹروم، جو مغربی ورجینیا سے تعلق رکھتی تھیں، اپنے زخموں کی وجہ سے انتقال کر گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “سارہ بیکسٹروم انتہائی قابل احترام، نوجوان اور شاندار شخصیت کی مالک تھیں۔ اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہیں۔”

دوسرے فوجی کی حالت

ٹرمپ نے بتایا کہ دوسرے گارڈ رکن، اسٹاف سارجنٹ اینڈریو وولف، 24 سال، “زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں”۔ بیکسٹروم کے والد گیری بیکسٹروم نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا تھا کہ ان کی بیٹی کے زخم مہلک ہیں اور اس کے بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ملزم کی شناخت

ملزم کی شناخت رحمان اللہ لکانوال، 29 سال، کے طور پر ہوئی ہے جو ایک افغان شہری ہے۔ تحقیقات کے مطابق لکانوال نے 357 اسمتھ اینڈ ویسن ریوالور کے ساتھ “گھات لگا کر حملہ” کیا۔ اس نے ایک گارڈ رکن پر دو گولیاں چلائیں پھر دوسرے کی طرف رخ کرکے فائرنگ کی۔

ملزم کا پس منظر

  • لکانوال 2021 میں افغانستان سے امریکہ ہجرت کرکے آیا تھا
  • وہ سی آئی اے کی حمایت یافتہ افغان یونٹ کا رکن رہ چکا ہے
  • اسے اپریل 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ کے تحت پناہ دی گئی تھی
  • وہ اپنی اہلیہ اور پانچ بچوں کے ساتھ واشنگٹن اسٹیٹ میں رہتا تھا

تحقیقات اور ردعمل

ایف بی آئی ڈائریکٹر کش پٹیل نے بتایا کہ ایجنسی اس واقعے کو دہشت گردی کے طور پر تحقیقات کر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے واقعے کے بعد واشنگٹن ڈی سی میں مزید 500 نیشنل گارڈ فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سیاسی ردعمل

ٹرمپ انتظامیہ نے واقعے کے بعد تارکین وطن کے ویزا پروگراموں کا جامع جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ صدر نے الزام لگایا ہے کہ بیڈن انتظامیہ نے افغان شہریوں کے معاملے میں مناسب چھان بین نہیں کی۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک وفاقی جج نے گارڈ کی تعیناتی ختم کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس حکم پر 21 دن کے لیے روک لگا دی گئی ہے تاکہ انتظامیہ اپیل کر سکے۔