40 سالہ تحقیق نے ظاہر کر دیا: دماغی صحت کے لیے ورزش کا سب سے اہم وقت کون سا ہے؟

درمیانی عمر میں ورزش ڈیمنشیا کے خطرے کو 45 فیصد تک کم کر سکتی ہے

ایک نئی تحقیق کے مطابق 40 اور 50 کی دہائی میں باقاعدہ ورزش کرنا آپ کے دماغ کی صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ 40 سال تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں ہزاروں بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ درمیانی اور بعد کی عمر میں جسمانی طور پر متحرک رہنے والے افراد میں ڈیمنشیا کا خطرہ 45 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔

تحقیق کے اہم نکات

یہ مطالعہ 5,354 بالغ افراد پر کیا گیا، جن کی جسمانی سرگرمیوں کو تین عمر کے مراحل میں ٹریک کیا گیا:

  • ابتدائی جوانی (26-44 سال): 1,526 شرکاء
  • درمیانی عمر (45-64 سال): 1,943 شرکاء
  • بعد کی عمر (65-88 سال): 885 شرکاء

مطالعے کے دوران 567 شرکاء میں ڈیمنشیا کی تشخیص ہوئی، جس سے محققین کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ مختلف عمر میں جسمانی سرگرمیوں کا دماغی صحت پر کس طرح اثر پڑتا ہے۔

درمیانی عمر میں ورزش کے حیران کن فوائد

تحقیق سے پتہ چلا کہ درمیانی عمر میں سب سے زیادہ متحرک رہنے والے افراد میں ڈیمنشیا کا خطرہ 41 فیصد کم تھا، جبکہ بعد کی عمر میں متحرک رہنے والوں میں یہ خطرہ 45 فیصد تک کم دیکھا گیا۔

محققین کے مطابق، “40 اور 50 کی دہائی میں جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانے سے یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت کو بہتر رکھنے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔”

کس قسم کی ورزش مفید ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغی صحت کے لیے جم جانا ضروری نہیں ہے۔ کوئی بھی ایسی سرگرمی جو دل کی دھڑکن کو تیز کرے اور پٹھوں کو متحرک کرے، فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے:

  • سیڑھیاں چڑھنا
  • دوپہر کے وقت تیز چہل قدمی
  • ہلکی وزن اٹھانے کی مشقیں
  • تیراکی یا سائیکل چلانا
  • آن لائن ورزش کے کلاسز

ابتدائی جوانی میں ورزش کا کردار

اس تحقیق میں ابتدائی جوانی میں ورزش کا ڈیمنشیا کے خطرے سے کوئی واضح تعلق نہیں ملا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جوانی میں ورزش کرنا بھی دل کی صحت، موڈ اور توانائی کے لیے فائدہ مند ہے۔

تحقیق کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ “ورزش شروع کرنے کے لیے کبھی بھی دیر نہیں ہوتی۔ درمیانی عمر میں معمولی سی تبدیلیاں بھی دماغی صحت پر طویل مدتی مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔”