وزیراعظم نے دونوں ممالک کی وفود کو جمعہ کے روز مذاکرات کی دعوت دی
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ پاکستان اس ہفتے کے آخر میں امریکہ اور ایران کی وفود کی میزبانی کرے گا۔ یہ دعوت دونوں ممالک کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد دی گئی ہے۔
وزیراعظم نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پوسٹ میں کہا، “میں دونوں ممالک کی قیادت کا گہرا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان کی وفود کو جمعہ 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں مزید مذاکرات کے لیے دعوت دیتا ہوں تاکہ تمام تنازعات کے حل کے لیے حتمی معاہدہ طے کیا جا سکے۔”
ایرانی صدر نے شرکت کی تصدیق کی
وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے “اسلام آباد مذاکرات” میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔ یہ تصدیق دونوں رہنماؤں کے درمیان 45 منٹ طویل فون کال کے دوران ہوئی۔
انہوں نے کہا، “ہم پرامید ہیں کہ ‘اسلام آباد مذاکرات’ پائیدار امن حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے اور آنے والے دنوں میں مزید خوشخبریاں شیئر کرنا چاہیں گے۔”
تنازعے کی مختصر تاریخ
یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیل اور امریکہ نے 28 فروری کو ایران کے سپریم لیڈر کے قتل کے لیے حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک اور اسرائیل پر جوابی حملے کیے۔
لبنان بھی اس تنازعے میں شامل ہو گیا ہے جب حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے کیے، جس کے بعد اسرائیل نے دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں پر حملے کیے اور ملک کے جنوب میں زمینی کارروائی شروع کی۔
پاکستان کی ثالثی کا کردار
پاکستان، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے اور ہمسایہ ملک ایران میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے حساس ہے، حالیہ ہفتوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغام رسانی کا اہم ذریعہ بن کر ابھرا ہے۔
عارضی جنگ بندی اس وقت ممکن ہوئی جب پاکستان اور دیگر ثالثوں نے صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کو ٹالنے کی آخری لمحات تک کوشش کی جس میں انہوں نے ایران بھر میں تمام پاور پلانٹس اور پلوں کو تباہ کرنے کی بات کی تھی۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایسا اقدام جنگی جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔
علاقائی ممالک کی حمایت
وزیراعظم نے ایک علیحدہ پوسٹ میں کہا کہ چین، سعودی عرب، ترکی، مصر اور قطر نے سب نے “جنگ بندی تک پہنچنے اور پرامن سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے تعاون” فراہم کیا ہے۔
انہوں نے عرب خلیجی ممالک کا بھی “خطے میں امن اور استحکام کے عزم” کے لیے شکریہ ادا کیا۔
پاکستان کے تعلقات کا تناظر
اگرچہ پاکستان نے دو سال قبل ایران کے ساتھ میزائل فائرنگ کا تبادلہ کیا تھا اور امریکہ کے ساتھ کبھی کبھار کشیدہ تعلقات رہے ہیں، لیکن فی الحال پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ گرمجوشی کے تعلقات رکھتا ہے۔
پاکستان ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر (560 میل) طویل سرحد بانٹتا ہے اور واشنگٹن میں تہران کے بعض سفارتی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے جہاں ایران کا کوئی سفارتخانہ نہیں ہے۔
