اسلام آباد: پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ اعلان منگل کو اسلام آباد میں پاکستان-ایران مشترکہ تجارتی کمیٹی (جے ٹی سی) کے 10ویں اجلاس کے آغاز پر کیا گیا۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ایران کے وزیر صنعت، کان کنی و تجارت ڈاکٹر محمد اتابک نے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ ایرانی وفد میں ایران چیمبر آف کامرس کا 16 رکنی کاروباری وفد بھی شامل تھا۔
آزاد تجارتی معاہدے پر پیش رفت کا جائزہ
اجلاس میں مجوزہ پاکستان-ایران آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، کسٹمز تعاون، بینکاری اشتراک اور سرحد پار تجارت کو فروغ دینے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں فریقین نے ایرانی وفد کے دورے کے دوران نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے اور بزنس ٹو بزنس تعاون کو مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
تاریخی برادرانہ تعلقات کو معاشی شراکت داری میں بدلنے کا وقت
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جام کمال خان نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک کے تاریخی برادرانہ تعلقات کو مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔
انہوں نے پاکستان-ایران آزاد تجارتی معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا اور سرحدی لاجسٹکس، کسٹمز طریقہ کار اور کارگو کی نقل و حرکت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا۔
مشترکہ سرحدی منڈیوں کا قیام
وزیر تجارت نے کہا کہ مشترکہ سرحدی منڈیوں کا قیام اور الیکٹرانک ڈیٹا انٹرچینج کا تعارف دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبے وسیع تر تجارت کے لیے تیاریں، تاہم حکومتوں کو مستحکم اور قابل اعتماد کاروباری ماحول فراہم کرنا ہوگا۔
انہوں نے یقین ظاہر ک کہ 10واں جے ٹی سی اجلاس دوطرفہ اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے ایک عملی روڈ میپ تیار کرے گا۔
پاکستان ایران کا طویل مدتی اسٹریٹجک تجارتی شراکت دار
ایرانی وزیر ڈاکٹر اتابک نے پاکستان کو ایران کا طویل مدتی اسٹریٹجک تجارتی شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کے ذریعے علاقائی تجارت اور لاجسٹکس تعاون کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان-ایران ایف ٹی اے جلد حتمی شکل اختیار کر لے گا۔
ڈاکٹر اتابک نے بجلی کی تجارت اور علاقائی رابطوں کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے مواقع کے طور پر بھی شناخت کیا۔
