تہران میں پیر کے روز چار ملکی اجلاس کے بعد پاکستان، ایران، ترکیہ اور سعودی عرب نے علاقائی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے سفارتی مذاکرات جاری رکھنے اور مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں چاروں ممالک نے مکالمے کو برقرار رکھنے، تعاون کو وسعت دینے اور خطے میں استحکام کے لیے مربوط کوششوں کے عزم کا اعادہ کیا۔
علاقائی سلامتی کے چیلنجز پر اتفاق
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان مسلسل مشاورت اور قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ بیان میں ہمسایہ ممالک کے مابین اعتماد کو مضبوط بنانے اور سلامتی کے حوالے سے علاقائی نقطہ نظر کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔
مشترکہ بیان میں علاقائی سلامتی کے طریقہ کار پر مشاورت اور تعاون کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور خطے کے ممالک کے درمیان مکالمے کو استحکام برقرار رکھنے کا اہم عنصر قرار دیا گیا۔
چاروں ملکوں نے امن و سلامتی کے لیے اجتماعی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، جس میں اعتماد کی تعمیر اور مشترکہ علاقائی خدشات سے نمٹنے کے لیے تعاون کی توسیع پر خاص توجہ دی گئی۔
ایران سے متعلق پیش رفت پر تبادلہ خیال
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں علاقائی سلامتی اور ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی اقدامات کے مضمرات پر بھی بات کی گئی۔ شرکاء نے ان پیش رفتوں کے خطے بھر میں استحکام پر پڑنے والے وسیع اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اس اجلاس نے چاروں ممالک کو مشترکہ سلامتی خدشات اور علاقائی ریاستوں کے درمیان مسلسل رابطے کی اہمیت پر گفتگو کا موقع فراہم کیا۔
فلسطین اور لبنان کی صورتحال
ایرانی میڈیا کے مطابق اجلاس کے دوران فلسطین اور لبنان کی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ ان امور پر بات چیت وسیع تر علاقائی سلامتی خدشات کے ساتھ ساتھ کی گئی، جو شرکاء ممالک کے سامنے موجود سیاسی اور سلامتی چیلنجز کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔
مشترکہ بیان میں مسلسل مکالمے، قریبی ہم آہنگی اور علاقائی امن و سلامتی کی حمایت کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور سلامتی کی پیش رفت خطے کی حکومتوں کے لیے اہم خدشات کا باعث بنی ہوئی ہے۔
