اسلام آباد — علاقائی صورتحال کی تبدیلی اور عالمی توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ نے نہ صرف پاکستان میں توانائی کی قیمتوں کو بڑھایا ہے بلکہ ملک کی توانائی سلامتی کے نظام میں موجود سنگین کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ جاری تنازعے نے پاکستان کی نازک توانائی سلامتی کی صورتحال کو نمایاں کرتے ہوئے جامع اور مربوط منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ایل پی جی مارکیٹ کی بڑھتی طلب
پیٹرولیم ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق، ملک میں ایل پی جی کی موجودہ بحران اگرچہ جزوی طور پر سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے باعث پیدا ہوا ہے، تاہم اس نے پاکستان کی ایل پی جی مارکیٹ کی پائیداری میں موجود کمزوریوں کو بھی اجاگر کیا ہے۔ ملک میں ایل پی جی کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ مقامی پیداوار ناکافی ہے اور موجودہ انفراسٹرکچر خامیوں سے بھرا ہوا ہے۔
دستاویزات کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد گھرانے قدرتی گیس کی پائپ لائن نیٹ ورک سے منسلک ہیں جبکہ ڈھائی کروڑ سے زائد گھرانے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایل پی جی اور دیگر ایندھن پر انحصار کرتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور قدرتی گیس کی گرتی ہوئی مقامی پیداوار ایل پی جی کی طلب میں تیزی سے اضافے کا سبب بن رہی ہے۔
- پاکستان کی سالانہ ایل پی جی مارکیٹ اس وقت تقریباً 24 لاکھ میٹرک ٹن ہے
- گزشتہ چھ سالوں میں مارکیٹ نے اوسطاً 7.5 فیصد سالانہ شرح نمو ریکارڈ کی ہے
- آئندہ برسوں میں طلب میں 8 سے 8.5 فیصد سالانہ اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے
- مالی سال 2025-26 میں 24 لاکھ میٹرک ٹن طلب مالی سال 2032-33 تک بڑھ کر 41 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن تک پہنچنے کا امکان ہے
- اس کے مقابلے میں مقامی پیداوار صرف 9 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن سے بڑھ کر 13 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن تک ہی بڑھنے کی توقع ہے
درآمدات میں اضافہ ناگزیر
طلب اور مقامی پیداوار کے درمیان بڑھتا ہوا فرق درآمدات کے ذریعے پُر کرنا ہوگا۔ ایل پی جی کی درآمدات 14 لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2033 تک 28 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
انفراسٹرکچر کی سنگین خامیاں
پاکستان کا موجودہ ایل پی جی انفراسٹرکچر بھی نمایاں خامیوں کا شکار ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور ہائیڈرو کاربن ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ آف پاکستان (ایچ ڈی آئی پی) کے معائنوں میں یہ بات سامنے آئی کہ تفتان کے کسی بھی زمینی داخلے کے مقام پر معیار جانچنے کی کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے۔
سرحدی گزرگاہوں پر مناسب حفاظتی انتظامات کے بغیر ایک ٹینکر سے دوسرے ٹینکر میں ایل پی جی کی منتقلی کے باعث 2020 سے اب تک متعدد دھماکے بھی ہو چکے ہیں۔ اندازوں کے مطابق پاکستان میں کام کرنے والے 56 فیصد ایل پی جی ٹینکرز غیر رجسٹرڈ ہیں۔
ذخیرہ اندوزی کی محدود صلاحیت
پاکستان کی موجودہ کل ایل پی جی ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت تقریباً 70 ہزار میٹرک ٹن ہے جس میں سے 14 ہزار میٹرک ٹن بندرگاہوں پر جبکہ 56 ہزار میٹرک ٹن اندرون ملک دستیاب ہے۔ یہ انتظامات ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
پورٹ قاسم پر موجود دو ایل پی جی ٹرمینلز میں سے ہر ایک کی ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت تقریباً 6,500 میٹرک ٹن ہے جو 10 ہزار ڈیڈ ویٹ ٹن (ڈی ڈبلیو ٹی) تک کے جہازوں کو سنبھال سکتے ہیں۔ یہ بین الاقوامی معیار سے کافی کم ہے جہاں ایل پی جی جہازوں کی صلاحیت عام طور پر 30 ہزار سے 50 ہزار ڈیڈ ویٹ ٹن تک ہوتی ہے۔
مزید برآں بندرگاہوں پر اضافی ذخیرہ اندوزی کی سہولیات کی کمی ہے جبکہ ایل پی جی کی نقل و حمل کے لیے اندرون ملک پائپ لائن نیٹ ورک بھی دستیاب نہیں ہے۔ نتیجتاً سمندری راستے سے ایل پی جی کی درآمدات ملک کی کل سپلائی کا صرف 16 فیصد ہیں۔
سرمایہ کاری کی ضرورت
دستاویزات میں مزید نشاندہی کی گئی ہے کہ مالی سال 2035-36 تک پاکستان کی متوقع ایل پی جی طلب کو پورا کرنے کے لیے ٹرمینل انفراسٹرکچر، ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت، سلنڈر بھرنے کی سہولیات اور نقل و حمل کی صلاحیتوں میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔
