خطے میں جنگ اور سفارتکاری کے متوازی دھارے
24 مارچ 2026 کی رات مشرق وسطیٰ کے تنازعے نے ایک نئے موڑ پر پہنچتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلسل فوجی کارروائیوں اور ایک ہی وقت میں چلنے والی خفیہ سفارتی کوششوں کا منظر پیش کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ “بہت اچھی” بات چیت کی تصدیق کی ہے جبکہ ایرانی وزارت خارجہ نے کسی بھی مذاکرات سے انکار کیا ہے۔
فوجی کارروائیوں کا نیا پیمانہ
امریکی سنٹرل کمانڈ (سنٹکام) کے مطابق 28 فروری سے جاری جنگ میں ایران کے خلاف 9,000 سے زائد ہدفوں پر حملے کیے جا چکے ہیں اور 140 ایرانی بحری جہاز تباہ یا نقصان زدہ ہو چکے ہیں۔ سنٹکام نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کے امن مذاکرات کے بیانات کے باوجود فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔
اسرائیلی فوج کا بیروت پر نیا حملہ
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے پیر کی روت بیروت میں حزب اللہ کے ہدفوں پر نیا حملہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ یہ کارروائی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے اس بیان کے فوراً بعد شروع کی گئی جس میں انہوں نے لبنانی گروپ کے خلاف کارروائیوں کے تسلسل کی بات کی تھی۔
ٹرمپ کا ایران پر جوہری مطالبہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ امریکہ-ایران مذاکرات میں “اہم معاملات پر اتفاق” ہو چکا ہے، لیکن اس کا لازمی نتیجہ تہران کا اپنے جوہری عزائم اور افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہونا ہوگا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات ایران کے اعلیٰ ترین شخص کے ساتھ ہو رہے ہیں، تاہم انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا نام نہیں لیا۔
پاکستان کی امن ثالثی کی تیاری
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے جیو نیوز کو بتایا کہ اگر دونوں فریق راضی ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان خود کو ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے جو امریکی-اسرائیلی فوجی مہم کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔
خفیہ کالوں کے انکشافات
رویٹرز کے حوالے سے معلومات کے مطابق، امریکہ-اسرائیلی حملے سے 48 گھنٹے قبل وزیراعظم نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے فون پر بات چیت کی جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے ساتھیوں کے خلاف “ڈیکیپٹیشن اسٹرائیک” کی تجویز پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری دے دی تھی لیکن حتمی تاریخ اور حالات کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔
پاکستان-ایران کے درمیان رابطہ کاری
وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس اراغچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں حالیہ واقعات پر تبادلہ خیال کیا اور صورتحال پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ ڈار نے خطے اور اس سے باہر امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے مکالمے اور سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیا۔
ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پیر کو کسی بھی امریکی مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 24 دنوں میں امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ سرکاری خبر ایجنسی آئرنا کے مطابق، دوستانہ ممالک کی جانب سے حال ہی میں بھیجے گئے پیغامات میں امریکہ کی جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی درخواست کی نشاندہی کی گئی تھی، لیکن ایران نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
ثالثی کی کوششوں کی تصدیق
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کرنے والا اہم ملک بن کر ابھر رہا ہے۔ اخبار نے دو ماخذات کے حوالے سے بتایا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کی۔ رویٹرز نے فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کی ہے۔
