geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
May 23, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    • Why Turkey Eggs Are Rarely on Our Platesکیا آپ نے کبھی ترکی کے انڈے کھائے ہیں؟ غذائیت سے بھرپور مگر بازار میں نایاب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    صحت و تندرستی
    • WHO Declares Emergency as Ebola Kills Over 80 in DR Congoکانگو میں ایبولا کی نئی وبا قابو سے باہر، ڈبلیو ایچ او نے بین الاقوامی ایمرجنسی نافذ کردی
    • Pakistan Cracks Down on Unsafe Syringes Amid HIV Surgeایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز: ڈریپ کا غیر محفوظ سرنجوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا حکم
    • France Launches Spring COVID-19 Booster Campaign for Most Vulnerableفرانس میں موسم بہار کے لیے نئی کورونا ویکسینیشن مہم کا آغاز، بوڑھوں اور کمزور افراد کو ترجیح
    دلچسپ اور عجیب
    • Giant dinosaur Nagatitan identified from Thai fossilsتھائی لینڈ میں 27 ٹن وزنی دیو ہیکل ڈائنوسار دریافت، جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے بڑا جانور
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • Train Travel's Hidden Benefit: Stress Relief Through Sceneryٹرین کے سفر میں مناظر کو دیکھنا ذہنی صحت کے لیے مفید، نئی تحقیق میں انکشاف
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Elon Musk Summoned by French Justice in X Investigationایلون مسک: فرانسیسی عدالت کے سامنے پیشی کا نوٹس اور ایکس کے خلاف تحقیقات
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • EU's Age Verification App "Technically Ready" to Block Minorsیورپی یونین کا عمر کی تصدیق کرنے والا ایپ تیار، پندرہ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا سے روکنے کی تیاری
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

قوم جاننا چاہتی ہے

December 3, 2019 0 1 min read
Qamar Javed Bajwa
Share this:

Qamar Javed Bajwa

تحریر : اے آر طارق

پاکستان کے موجودہ کٹھن اور نازک حالات میں آرمی چیف جناب قمر جاوید باجوہ صاحب کی مدت ِملازت میں تین سالہ توسیع کے حکومتی نوٹیفکشن کی پاکستان کی سب سے بڑی معزز عدالت سپریم کورٹ سے عزت ماب چیف جسٹس پاکستان جناب آصف سعید کھوسہ کے حکم پر معطلی کے احکامات ہر ذی شعور پاکستانی کے لیے ایک جھٹکے اور صدمے سے کم نہ تھے۔اِس لیے کہ ملک عزیز کے موجودہ حالات اور مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سالہ توسیع کے نوٹیفکشن کی عدلیہ کی جانب سے معطلی قومی سطح پر ایک اچھا شگون نہ سمجھا جارہاتھا۔اِسے پاکستان کے لیے انتہائی نقصان دہ جاناجارہاتھا۔وہ عدلیہ جو قیام پاکستان سے لیکر اب تک اِس معاملے پرسوئی رہی ،کبھی بھی نہ جاگی۔اب جاگی بھی تو کمال کی جاگی،جس کا جاگنا پاکستان کے نازک حالات میں ہر پاکستانی کے لیے تشویش کا باعث بن گیا۔ہر شخص سپریم کورٹ کی طرف سے آنے والی اِس اچانک اُفتاد پر حیران وپریشان ہواپڑاتھااور اِ س سوچ میں غلطان تھاکہ یہ سپریم کورٹ سے کیسا انہونا فیصلہ آگیاہے اور یہ کہ ملک کی کمزور صورتحال میں اِس فیصلہ کے دینے کا کیا” تُک” تھا۔جب پہلے اِس معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی تو اب اِس پراتنا کچھ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

توسیع کا معاملہ پہلے بھی چلتا رہا اور عدلیہ کی طرف سے معنی خیز خاموشی رہی تھی تو اب جبکہ ملک مشکل دور سے گزررہا ہے آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر عدلیہ کواچانک اتنا کچھ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ کیا پہلے کی طرح عدلیہ سے اب بھی صبر نہیں ہوسکتاتھا؟ایسی کیا بن آئی کہ عدلیہ کو ایکشن لینا ضروری ہوگیا تھا۔؟ماناکہ آرمی ایکٹ قانون میں سقم یا ابہام تھا اوریہ کہ سپریم کورٹ نے اِس پر ایکشن لے لیااور اِس معاملے پر آرمی ایکٹ قانون میں جوکمی کوتاہی تھی اُسے ظاہر کردیا اور یہ کہ سب پر سب کچھ عیاں کردیا،کہاں غلطی کہاں بہتری کی گنجائش بتااور سمجھادیااور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی توسیع کے معاملہ پر موجود اضطراب بھی مشروط 6ماہ کی مدت ملازمت کی اجازت دے کر دُور کردیااور ساتھ ساتھ آرمی ایکٹ کے حوالے سے بہتر اور مئوثر، پارلیمنٹ سے قانون سازی کابھی 6 ماہ کے اندر اندر حکم صادر فرمادیاجوکہ ایک خوش آئند بات ہے۔

معزز عدلیہ کا آرمی ایکٹ قانون میں بہتری کے حوالے سے یہ ایک مثبت پیش رفت اور اچھاقدم ضرور ہے مگر پاکستان کے موجودہ حالات میں پاکستان کے ہر شہری کو ہلادینے والا اقدام بھی تھا۔کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ اگر یہ توسیع کا معاملہ پہلے کی طرح ایسے ہی تین سال چل جاتا تو کیا حرج تھا؟۔ملک کی موجودہ صورتحال میں اِس معاملے کو چھیڑنا مناسب بات نہ تھی۔یہ معاملہ اتنا اہم اور جلدی والانہ تھا کہ اِسے اب ہی حل کرنا بیحد ضروری تھا۔ملک کے حالات اور کشمیر کی صورتحال دیکھتے ہوئے ملک کے وسیع تر مفادات میں اِسے وقتی طور پر ٹالابھی جاسکتاتھا۔اگر پہلے اِس معاملے پر غور نہ کرنے سے کام چل سکتاتھا تواب کے بار جاکر کون سا رُک رہاتھا۔یہ توسیع کا معاملہ توپھر بھی وزیر اعظم کے احکامات پر ہواتھا جس کا اختیار ہر حوالے سے ملک کے سربراہ کو ہونا چاہیئے ملک کے حکمران کو اختیار ہونا چاہئیے کہ وہ جس کو جب تک اور جس کوبھی ملک کا سپہ سالار رکھنا چاہے ،رکھ سکے۔ملک کے حکمران پر اِس حوالے سے کسی طرح کی بھی کوئی قانونی قدغن لگانا کسی بھی طرح ٹھیک عمل نہ ہے۔اسلامی تاریخ کو اُٹھاکر دیکھیں تو سربراہ مملکت ہی فوج کے سپہ سالار کی تعیناتیاں کرتے ہیں۔

فوج کے سپہ سالار کی تعیناتی اور توسیع کون کرسکتا ،کون نہیں کرسکتاکی قدغن نہیں ہونی چاہیئے ۔میں سمجھتاہوں کہ فوج کے اندر بھی ایسی باڈی کو باختیار بنانا چاہیئے کہ جو اگر کسی بھی اپنے سربراہ کو مزید عہدے پر برقرار رکھنا چاہے تواُسے بھی آئینی و قانونی طور پر معتبر مانا جائے ۔تاہم سربراہ مملکت کا فیصلہ ہی آخری اور حتمی ہو۔پھر یہ کہ پاکستان تو پھر وہ ملک ہے جہاں پر ڈکٹیٹروں کے خود کو خود ہی توسیع دینے کا عمل بھی جاری وساری رہا اور کہیں سے بھی کوئی کہرام اور آواز بلند نہ ہوئی جبکہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی توسیع توپھر بھی وزیر اعظم نے کی جو خود کو خود سے توسیع دینے سے بہر حال ایک بہتر عمل ہے۔کم از کم پھر بھی وزیر اعظم توسیع دے رہے ۔ہمارے ملک کا سسٹم اتنا بوسیدہ ،نکما اور ناکارہ ہے کہ کسی معاملے کو اگنور کرنے پر آئے تو برسوں اگنور کرتاہے۔نہیں دیکھتاتو قیام پاکستان سے لیکر اب تک نہیں دیکھتا اوردیکھنے اور سمجھنے پر آئے تو ایک پل کی بھی رعائت نہیں دیتا۔نظریں چرانے پر آئے تو اچھا خاصہ معاملہ سے چرائے اور نظریں جمائے تو اُس پر بھی ڈال لے جس پر برسوں سے نگاہ ڈالنے کی اُسے کبھی فرصت نہ ملی ہو۔

اگر اگنور کرنے پر آئے تو ڈکٹیٹروں کی خود سے خود کو دی جانے والی توسیع پر بھی مجبوراً چپ ہوجائے اور اگر توسیع کامعاملہ اُٹھانے پر آئے تو موجودہ آرمی چیف کے توسیع کے معاملے پر اچھا خاصا” شو” لگادے۔ جس پر اتنا حشر اُٹھانے کی ضرورت بہرحال نہ تھی۔سوموٹو ایکشن نہ لیں تو اچھے خاصے معاملے پر نہ لیں ،لینے پر آجائیں تو ایسے معاملے پر لے لیںجس پر گزارا بھی چل سکتا تھا۔انصاف دینے پر آئیں تو اُسے بھی دے دیںجو انصاف کے لائق نہ تھا اور انصاف نہ دیں تو اُسے بھی نہ دیں جو صحیح حقدار تھا۔ میں نے اپنی صحافتی زندگی میں یہاں بہت سے لوگوں کو صریحاً ناحق انصاف کی مار کا شکار ہوتے دیکھا اور بہت سے افراد کو مجرم ہوتے ہوئے بھی آزاد دیکھا۔جس ملک کی عدالتوں میں انصاف کم کم اور مشکل سے ملتا ہو ۔جہاں ہر تالا رشوت کی چابی سے کھلتا ہو۔وہ معاشرہ نہ تو اسلامی معاشرہ ہے اور نہ ہی وہاں کے حکمران اسلامی حکمران۔جس ملک میں انصاف دینے کے انداز نرالے ہوں۔کمال کی حدوں کو چھوتے ہوئے ہوںوہاں فیصلے ایسے ہی آیا کرتے ہیں۔

بے موقع ،بے محل ،بغیر سوچے سمجھے اور انتہائی عجلت میں۔عدلیہ کو اتناکہرام اور اضطراب برپا کرکے پھرآرمی چیف کو 6 ماہ کی توسیع دینے کی ضرورت ہی کیا تھی جب معاملہ اُٹھا ہی دیاتھا تو پھر نرمی کیسی؟پھر حشربرپاکیوں نہیں کیا۔حشربرپاکردینے میں مزید کیاہرج تھا۔سستی شہرت اور نیک نامی کمانے کی حرص نہ جانے ہمیںکہاں سے کہاں پر پہنچاکر چھوڑے گی۔آخر ہمیں سمجھ کیوں نہیں آتی اوریہ کہ سب کچھ تلپٹ کرکے ہی ہم اپنا آپ درست کرنے کی طرف ہی کیوں جاتے ہیں۔اِس سے پہلے ہم کہاں سوئے اور بھٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔

کیا شان یہی رہ گئی ہے کہ کسی بھی معاملے پر اچانک اُفتاد بن کر اُتر جائو۔کیا یہ دانشمندی نہیں ہے کہ معاملہ کو اچھے طریقے سے وقت سے پہلے ہی مناسب طریقے سے حل کرو۔ایک اور بات کیا عجیب بات ہے کہ پہلے ایک جرم میں اچھے بھلے آدمی کومبینہ کرپشن میں کرپٹ جان کر اُس کی سب عزت ،سکھ چین اور آرام وسکون چھین لیتے ہیں اور بعدازاں پھر چپکے سے سارے جرموں کے ہوتے ہوئے بھی کسی نہ کسی بنیاد پر پکڑے ہوئے کا تاثر دے کر چھوڑ دیتے ہیں۔کسی کو چوراچکا،ڈاکو ، لٹیرااور ملک دشمن بنادیا اور جب من چاہاتو سب کچھ چھومنتر کرکے سب کچھ ٹھیک بنادیا۔امیر کو رعائتیں اور قانون میں گنجائش نکال کر سب جرموں کے باوجود باہر نکال دیا اور غریب کا کوئی پرسان حال نہیں،اُس کے نصیب میں جیلوں میں سڑناہی رہ گیا۔غریب کے لیے اور قانون اور اشرافیہ کے لیے دوسرے ضابطے ۔یہ دوہرے معیار کیوں؟ اِس پر سوموٹو ایکشن کیوںنہیں؟کیایہ اقدام ملک کے وسیع تر مفادات کے پیش نظر سوموٹو ایکشن کے زمرے میں نہیں آتاکیا؟یاہم اِس کے متحمل نہیں ہیں۔ریاست ومقننہ سے قوم اِن سوالوں کے جوابات جاننا چاہتی ہے۔
A R Tariq

تحریر : اے آر طارق

Share this:
Miftah Ismail - Shahid Khaqan Abbasi
Previous Post شاہد خاقان اور مفتاح اسماعیل سمیت 10 ملزمان کے خلاف ایل این جی ریفرنس دائر
Next Post پاکستان پراپرٹی شو 6 اور 7 دسمبر کو دبئی ورلڈ سنٹر میں منعقد کیا جائے گا: زمین ڈاٹ کام کا اعلان
Zameen

Related Posts

Cannes’ Longest Ovation Masks an Awkward Truth

کان فلم فیسٹیول: 16 منٹ کی تاریخی تالیاں، لیکن کیا یہ پام ڈی اور کی ضمانت ہے؟

May 23, 2026
France Bans Israeli Minister Over Gaza Flotilla Incident

فرانس نے اسرائیلی وزیر بن گویر کی ملک میں انٹری پر پابندی لگا دی، یورپی پابندیوں کا مطالبہ

May 23, 2026
Actor Momina Iqbal Seeks FIR Against PML-N MPA

اداکارہ مومنہ اقبال کی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے خلاف ہراسگی کی درخواست، وزیراعلیٰ نے سیاسی دباؤ ڈالنے پر سخت کارروائی کی وارننگ دے دی

May 23, 2026
Pakistan Busts Ring Selling Officials' Data

چند ہزار روپے میں سرکاری افسران کا ڈیٹا فروخت کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب، چار ملزمان گرفتار

May 23, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.