اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اقتصادی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے، اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے مالیاتی نظم و ضبط، برآمدات میں اضافے اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو ایسی مالیاتی جدت کی ضرورت ہے جو کاروبار کرنے کے اخراجات کم کرے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو باقاعدہ معیشت میں شامل کرے۔
ڈیجیٹل اثاثوں کی شمولیت پر زور
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کو ان کے حقیقی اقتصادی فوائد اور کاروباری سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر مالیاتی نظام میں شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل جدت کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک مالیاتی خدمات پہنچانا اور کاروباری امور کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔
وزیر خزانہ نے بلاک چین نیٹ ورکس پر ادارہ جاتی صارفین کے لیے ڈپازٹ ٹوکنز کے استعمال کو ڈیجیٹل مالیاتی جدت کی ایک عملی مثال قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (بی آئی ایس) کا پروجیکٹ ایگورا ٹوکنائزڈ بینک ڈپازٹس کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ مرکزی بینک ڈپازٹس کے ذریعے سرحد پار ادائیگیوں کے امکانات کی تلاش کر رہا ہے۔
بینکوں کا کردار اور خطرات کی مدیریت
انہوں نے زور دیا کہ بینکوں کا کردار سرمایہ کاری کے تحفظ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سے وابستہ خطرات کے انتظام میں انتہائی اہم ہے، اور بینک ہی صارفین تک خدمات کی مؤثر فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ریگولیٹری فریم ورک میں مختلف قسم کے ڈیجیٹل اثاثوں اور ان سے منسلک اقتصادی سرگرمیوں کو الگ الگ مدنظر رکھا جانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق بغیر کسی پشت پناہی کے کریپٹو اثاثوں کے خطرات مختلف نوعیت کے ہیں، اس لیے ریگولیٹرز کے لیے ڈیجیٹل اثاثوں کی مختلف اقسام اور ان کی متعلقہ اقتصادی سرگرمیوں میں تمیز کرنا لازم ہے۔
ورچوئل اثاثہ جات کا قانونی فریم ورک
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے تحت قانونی فریم ورک قائم کر دیا گیا ہے، جبکہ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) ورچوئل اثاثہ جات خدمات فراہم کرنے والوں کے لائسنسنگ اور نگرانی کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ورچوئل اثاثوں کے لیے ایک قانونی اور زیرِ نگرانی نظام کے قیام کی جانب پیش رفت کی ہے۔
انہوں نے ڈیجیٹل اثاثوں کے ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔
ترسیلات زر اور سائبر سیکیورٹی
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کو 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جبکہ رواں مالی سال میں یہ رقم 44 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی توسیع کے ساتھ ساتھ سائبر سیکیورٹی کے خطرات سے نمٹنے میں کسی قسم کی کوتاہی کی گنجائش نہیں ہے۔
- مالیاتی نظم و ضبط، برآمدات میں اضافہ اور نجی سرمایہ کاری پائیدار ترقی کی کلید ہیں۔
- ڈیجیٹل اثاثوں کو ان کے اقتصادی فوائد کی بنیاد پر مالیاتی نظام میں شامل کیا جائے۔
- ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے تحت قانونی فریم ورک قائم، پی وی اے آر اے لائسنسنگ کی ذمہ دار۔
- گزشتہ مالی سال 41.6 ارب ڈالر ترسیلات زر، رواں سال 44 ارب ڈالر سے تجاوز کی توقع۔
- سائبر سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے میں کوتاہی کی گنجائش نہیں۔
