اسلام آباد: پاکستان نے جمعرات کو کہا کہ وہ گزشتہ ماہ طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت امریکا اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ دفتر خارجہ نے علاقائی کشیدگی کے درمیان دونوں فریقوں سے تحمل اور سفارت کاری جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کی نازک سیکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں نسبتاً پرسکون ماحول نے دیرپا جنگ بندی اور بات چیت کی بحالی کی امید پیدا کی تھی، تاہم حالات بدستور تشویشناک ہیں۔
سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے، دفتر خارجہ
اندرابی نے پاکستان کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ تنازعات کے حل اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات ہی “واحد قابل عمل راستہ” ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت کی بحالی کے تمام اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان سفارتی کوششوں میں مصروف ہے اور اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ارد گرد کشیدگی کو معمول پر لانے اور تناؤ میں کمی کی کوششوں کی حمایت کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
اسلام آباد معاہدے کی بحالی کے لیے بھرپور اقدامات
دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان اپنی “بھرپور” کوششیں کر رہا ہے کہ دونوں فریقین کو اسلام آباد ایم او یو کے فریم ورک پر واپس لایا جائے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ 22 جون کو جاری ہونے والے پاکستان-قطر مشترکہ بیان کی روح کے مطابق بقایا مسائل کو حل کیا جا سکے۔
اندرابی نے امریکا اور ایران پر زور دیا کہ وہ “زیادہ سے زیادہ تحمل” کا مظاہرہ کریں اور اسلام آباد ایم او یو اور پاکستان-قطر مشترکہ بیان کے تحت فنی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے اپنے عزم کا احترام کریں۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور حملوں کا سلسلہ
امریکا-ایران مفاہمتی یادداشت پر 18 جون کو دستخط ہوئے تھے، جس کا مقصد آبنائے ہ کو بحری جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنا اور مسلسل مذاکرات کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے وسیع تر تنازعے کو ختم کرنا تھا۔ تاہم، 7 جولائی کو اس وقت کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا جب ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنایا۔
ایران نے ایک قطری مائع قدرتی گیس کے ٹینکر پر حملہ کیا اور واشنگٹن پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ اس واقعے کے بعد امریکا نے ایرانی فوجی اہداف پر متعدد جوابی حملے کیے۔
تنازعہ بعدازاں اس وقت مزید پھیل گیا جب یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر بحری ناکہ بندی مسلط کر دی، جس سے ایک اور بڑا بحری راستہ بحران کا شکار ہو گیا۔ بدھ کو یہ تنازعہ مزید محاذوں تک پھیل گیا جب مصر میں قدرتی گیس لوڈنگ کی ایک تنصیب پر دھماکے ہوئے اور اطلاعات سامنے آئیں کہ امریکی ملکیت کے ایک تیرتے ہوئے ذخیرہ کرنے والے ٹینکر کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فوج کی ایران پر جوابی کارروائیاں
دریں اثنا، امریکا اور سعودی عرب نے عراق میں ایران کے حمایت یافتہ نیم فوجی گروپوں کے خلاف مشترکہ حملے کیے، جو امریکی افواج اور سعودی تیل کی تنصیبات پر حملوں کا جواب تھے۔ جمعرات کو تقریباً ایک ہفتے کے وقفے کے بعد، امریکا نے اردن میں اپنے فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے جواب میں ایران پر تازہ حملے شروع کر دیے۔
پاکستانی جوہری پروگرام پر ڈی ڈبلیو کی دستاویزی فلم مسترد
دفتر خارجہ نے جرمنی کے نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) کی جانب سے پاکستان کے جوہری پروگرام پر حال ہی میں جاری کردہ ایک دستاویزی فلم کو مسترد کرتے ہوئے اسے “گمراہ کن” اور قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دیا ہے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ یہ دستاویزی فلم محض “فرسودہ اور قیاس آرائی پر مبنی تبصرے” کی تکرار ہے، جسے متعصب ذرائع کی مدد سے تیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام پاکستان کی جوہری تاریخ اور پالیسی کے ارتقا کے بارے میں یا تو “گہری غلط فہمی” کو ظاہر کرتا ہے یا پھر ملک کے جوہری پروگرام کے پیچھے موجود منطق کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا ہے۔>
ڈی ڈبلیو کی صحافتی معیارات پر سوال اٹھاتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اس طرح کا مواد نشر کرنے سے نشریاتی ادارے کی ساکھ اور پیشہ ورانہ صحافت کے لیے اس کی شہرت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ذمہ دارانہ صحافت کا تقاضا ہے کہ غیر مصدقہ دعوؤں اور مفروضوں کو فروغ دینے کے بجائے مکمل تصدیق، متوازن تجزیہ اور مناسب سیاق و سباق فراہم کیا جائے۔
