بڑی فضائی آپریشن: پاک فضائیہ کے 24 جیٹ طیارے اور ایواکس نے حفاظتی چھتری فراہم کی
ذرائع کے مطابق، پاک فضائیہ نے گزشتہ ہفتے امریکہ کے ساتھ غیر فیصلہ کن امن مذاکرات میں شریک ایرانی وفد کو اس خدشے کے پیش نظر محفوظ طریقے سے وطن واپس پہنچانے کے لیے ایک بڑا فضائی آپریشن کیا کہ اسرائیل انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
وفد کی سلامتی پاکستان کی ذمہ داری تھی
پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ وفد کی واپسی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تقریباً دو درجن جنگی طیارے اور فضائیہ کا ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (ایواکس) تعینات کیا گیا تھا۔ ایک ذریعے نے کہا، “ہم نے انہیں تہران تک پہنچایا۔ یہاں ان کے قیام کے بعد بھی ان کی سلامتی ہماری ذمہ داری تھی۔”
مذاکرات کی ناکامی نے خدشات بڑھا دیے
ایک سیکیورٹی ذریعے کے مطابق، “جب مذاکرات ناکام ہوئے تو ایرانیوں کو تشویش تھی کہ معاملات درست نہیں گئے۔ انہیں شک تھا کہ وہ نشانہ بن سکتے ہیں۔” انہوں نے اس آپریشن کو “ایک بڑا آپریشنل مشن” قرار دیا۔
چینی ساختہ جے-10 سی طیارے استعمال ہوئے
ذرائع نے تصدیق کی کہ ایرانی وفد کو تہران پہنچانے کے اس مشن میں پاک فضائیہ کے جدید ترین چینی ساختہ جے-10 سی طیارے استعمال کیے گئے، جو اس وقت فضائیہ کے بیڑے میں سب سے طاقتور جنگی طیارے ہیں۔
اسرائیلی ‘سٹرائیک لسٹ’ کا انکشاف
ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایرانی وفد کے سربراہان، وزیر خارجہ عباس آراقچی اور پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف، اسرائیل کی ‘سٹرائیک لسٹ’ پر تھے، جب تک کہ پاکستان نے واشنگٹن سے مداخلت کرکے انہیں اس فہرست سے ہٹانے کی درخواست نہیں کی۔
آئندہ مذاکرات کے لیے بھی حفاظتی انتظامات
ذرائع کے مطابق، ایرانیوں کی درخواست پر اسی طرح کی حفاظتی چھتری آئندہ ہونے والے مذاکرات کے لیے بھی فراہم کی جائے گی۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ اس ہفتے ہونے والے نئے دورِ مذاکرات کے لیے پہلے سے ہی انتظامات پر کام جاری ہے۔
بین الاقوامی ردعمل
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر، ایران کے مستقل مشن اور امریکی سفارتخانہ اسلام آباد نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ پاک فضائیہ اور فوج نے بھی آپریشن کے بارے میں سوالات کے جوابات نہیں دیے۔
