پیرس میں بدھ کی رات متعدد مزدور تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئے غیر ملکی کارکنوں کو رہائشی دستاویزات حاصل کرنے یا ان کی تجدید میں درپیش بڑھتی ہوئی مشکلات کی مذمت کی۔ یہ صورتحال کاروباری حضرات کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ ان ملازمین کو برطرف کریں جنہیں وہ بھرتی کرنے میں پہلے ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
پیرس کے ریستورانوں میں کم از کم 30 فیصد کارکن غیر ملکی ہیں۔ حالیہ دنوں میں، ایک مشہور ریستوران کے مالک میشل (نام تبدیل کر دیا گیا ہے) کو اپنے دو ریستورانوں میں کام کرنے والے ملازمین کو برطرف کرنا پڑا۔ میشل نے کہا، “وہ مکمل طور پر اطمینان بخش کارکردگی دکھا رہے تھے۔” ان میں سے ایک ملازم، جو 60 سالہ مالاگاشی شہری تھا، سات سال سے وہاں کام کر رہا تھا۔
تقریباً ایک سال قبل، جب اس کا رہائشی اجازت نامہ ختم ہو گیا، تو وہ پیرس کی پولیس پریفیچر سے اسے تجدید کرانے یا رسید حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ میشل نے کہا، “میں نے اسے کئی ماہ تک رکھا، لیکن میں مزید جاری نہیں رکھ سکتا تھا۔ اگر کوئی چیکنگ ہوتی تو مجھے بھاری نقصان اٹھانا پڑتا۔”
یہ صورتحال پیرس کی کاروباری برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جہاں پہلے ہی افرادی قوت کی کمی ہے اور ملازمین کی بھرتی میں دشواری کا سامنا ہے۔ رہائشی اجازت ناموں کی تجدید میں رکاوٹیں نہ صرف کارکنوں بلکہ ان کے آجرین کے لیے بھی مشکلات کا باعث بن رہی ہیں، جو قوانین کی پابندی کرتے ہوئے بھی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔
