اسلام آباد: پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ہولناک آتشزدگی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی نے اپنی 43 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ممکنہ طور پر بجلی کی خرابی کے سبب پیدا ہونے والی آگ کو نظامی اور ادارہ جاتی ناکامیوں نے ایسے المیے میں بدل دیا جس میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کی نرسری میں 14 نومولود بچے جان کی بازی ہار گئے۔
بجلی کی خرابی آگ کا ممکنہ سبب قرار
رپورٹ کے مطابق نیشنل فارنزکس ایجنسی کے تکنیکی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے سی یونٹ نمبر 2 سے منسلک بجلی کی کیبل، جو اے سی یونٹ نمبر 1 کے قریب یا اس کے اوپر تھی، آگ لگنے کا سب سے زیادہ ممکنہ مقام تھی۔ تفتیش کاروں کے مطابق غیر معمولی طور پر مقامی سطح پر بجلی کے گرم ہونے کے سبب موصلیت (insulation) ناکام ہوئی اور قریبی آتش گیر مواد میں آگ بھڑک اٹھی۔
انکوائری میں آتشزدگی کے دوران کسی بیرونی سازش، متعدد مقامات پر آگ لگنے، آئیسکو کی جانب سے کسی خرابی، آکسیجن کے اخراج یا انکیوبیٹر کو آگ کے منبع کے طور پر ثابت نہیں کیا جا سکا۔ تاہم کمیٹی نے واضح کیا کہ ایئر کنڈیشنرز کی دیکھ بھال کے ریکارڈ کے باوجود کیبلز، ارتھنگ، کنکشنز اور بریکر تحفظ پر مشتمل کوئی مؤثر اور منظم برقی حفاظتی پروگرام موجود نہیں تھا۔
پہلے کی وارننگز پر جامع کارروائی نہ ہوئی
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پمز میں آتشزدگی سے متعلق خدشات نئے نہیں تھے۔ کمیٹی نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی سابقہ مراسلت، فیڈرل اومبڈسمین کی 2015 کی سفارشات، پمز کی جانب سے 2025 میں فرسودہ فائر سیفٹی انفراسٹرکچر کے اعتراف اور 6 جولائی 2026 کو نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ کا حوالہ دیا۔
نرسنگ ہاسٹل کا واقعہ پہلے ہی الارم، آگ کی نشاندہی، برقی معائنے، انخلا کے انتظامات اور ہنگامی مشقوں میں خامیوں کو اجاگر کر چکا تھا۔ کمیٹی کے مطابق ان وارننگز کے باوجود نرسری المیے سے قبل کوئی جامع، وقت بند اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ اصلاحی پروگرام نہیں بنایا گیا۔
نرسری میں زیادہ بچے، عملہ کم
انکوائری رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کے وقت نرسری میں 15 نومولود بچے زیر علاج تھے جبکہ یہ یونٹ صرف 10 بچوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ متعدد بچے آکسیجن یا سانس کی مدد پر منحصر تھے۔ موقع پر صرف دو ڈاکٹر اور دو نرسیں موجود تھیں جبکہ محفوظ انخلا کے وسائل محدود تھے۔
تفتیش کاروں کے مطابق نرسری کے لیے کوئی منظور شدہ، تربیت یافتہ اور باقاعدہ مشق شدہ انخلا کا طریقہ کار موجود نہیں تھا، نہ ہی متاثرہ حصے میں خودکار اسموک ڈیٹیکشن، الارم یا اسپرنکلر سسٹم فعال پایا گیا۔ آتش گیر مواد اور آکسیجن سے بھرپور ماحول نے آگ اور دھوئیں کو تیزی سے پھیلانے میں کردار ادا کیا۔
فرنٹ لائن عملے کی فوری کارروائی تسلیم
کمیٹی نے اس عمومی الزام کو مسترد کیا کہ ہسپتال کے فرنٹ لائن عملے نے نومولود بچوں کو چھوڑ دیا تھا۔ سی سی ٹی وی شواہد کے مطابق چارج نرس نسرین اختر، سیکیورٹی گارڈ ماریہ سلیم اور اسٹاف نرس رضیہ نورین نے چند لمحوں میں جوابی کارروائی کی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ فرنٹ لائن عملے نے 6:38 بجے کے قریب کارروائی شروع کی جبکہ بیرونی ہنگامی خدمات کو 6:54 بجے اطلاع دی گئی اور امدادی ٹیم 7:01 بجے پہنچی۔ کمیٹی نے آگ کے ظاہر ہونے اور بیرونی اطلاع کے درمیانی وقفے کو اہم نکتہ قرار دیا۔
ہنگامی نظام ناکام رہا
کمیٹی کے مطابق پمز میں کوئی آزمودہ انسیڈنٹ کمانڈ سسٹم موجود نہیں تھا جو آگ کی نشاندہی کو فوری طور پر الارم، انخلا، بیرونی اطلاع اور مربوط ریسکیو آپریشن میں بدل سکے۔ کیپیٹل ایمرجنسی سروسز نے راستوں کے بند یا رکاوٹ کا انکشاف کیا جسے کمیٹی نے ایمرجنسی ایگزٹ سے متعلق سنگین ادارہ جاتی مسئلہ قرار دیا۔
احتساب شواہد کی بنیاد پر
رپورٹ میں کسی نامزد فرد کے خلاف مجرمانہ قصور ثابت نہیں ہوا تاہم چار ممکنہ پہلوؤں پر مرکوز مجرمانہ تفتیش کی سفارش کی گئی ہے: اے سی یونٹ نمبر 2 سے منسلک برقی تنصیب یا دیکھ بھال میں ناکامی، لازمی ایمرجنسی راستے میں رکاوٹ، سابقہ وارننگز کے باوجود کارروائی نہ کرنا اور بیرونی امداد حاصل کرنے میں تاخیر۔
کمیٹی نے کہا کہ شواہد سے ثابت ہونے والی ذمہ داری، پیشگی معلومات اور اختیار کی بنیاد پر انتظامی اور محکماتی کارروائی کے لیے بھی بنیادی شواہد موجود ہیں۔ برقی، انجینئرنگ اور ایچ وی اے سی سلسلے میں ذمہ داری کا تعین کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
کوئی ثبوت نہیں ملا
انکوائری میں سازش، تخریب کاری، نومولود بچوں کو جان بوجھ کر بند کرنے، سیاسی تحفظ یا ہلاکتوں کے اعداد و شمار چھپانے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ رپورٹ میں وزارت صحت، اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی اور سی ڈی اے/سی ای ایس کی کوتاہیوں کو بنیادی طور پر ادارہ جاتی، نگرانی اور ریگولیٹری نوعیت کا قرار دیا گیا۔
