اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) اپنی سیاسی جڑیں آل انڈیا مسلم لیگ اور جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی صدیوں پر محیط سیاسی جدوجہد سے جوڑتی ہے، جو ایک علیحدہ وطن کے لیے تحریک اور پاکستان میں بعد ازاں سیاسی ارتقا میں اس کے کردار کو نمایاں کرتی ہے۔
آل انڈیا مسلم لیگ 30 دسمبر 1906 کو اس وقت وجود میں آئی جب پورے ہندوستان سے مسلم رہنما ڈھاکہ میں جمع ہوئے اور انہوں نے نوآبادیاتی دور میں مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک سیاسی تنظیم قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
1930 میں علامہ محمد اقبال نے آل انڈیا مسلمگ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے سیاسی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے ایک علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا۔
قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ نے 23 مارچ 1940 لاہور میں تاریخی قرارداد پاکستان منظور کی، جس کے ذریعے ایک خودمختار مملکت کے قیام کے لیے جدوجہد کا عزم کیا گیا۔
سیاسی جمہوری جدوجہد کے ذریعے قیام پاکستان
صرف سات سال کے عرصے میں مسلم لیگ نے سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے پاکستان کا قیام ممکن بنایا اور 14 اگست 1947 کو پاکستان ایک خودمختار ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔
آزادی کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کا نام تبدیل کر کے پاکستان مسلم لیگ رکھ دیا گیا۔ جماعت کی قیادت نے آزادی کے بعد مشکل ابتدائی سالوں میں ملک کی رہنمائی کی۔ تاہم 1950 کی دہائی میں جمہوری حکمرانی میں خلل پڑا، جو بالآخر 1958 میں مارشل لاء کے نفاذ کا باعث بنا۔
پے در پے مارشل لاء ادوار کے دوران پاکستان مسلم لیگ کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا اور اس کا سیاسی کردار محدود ہو کر رہ گیا۔ البتہ محمد نواز شریف کی قیادت میں یہ جماعت 1990 کے انتخابات میں ملک کی ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر دوبارہ ابھری۔
نواز شریف کے دور میں معاشی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبے
>اکتوبر 1993 کے انتخابات میں پارٹی نے سب سے زیادہ عوامی ووٹ حاصل کیے۔ فروری 1997 میں اس نے عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کی اور تمام صوبوں میں نمائندگی حاصل کرنے والی واحد سیاسی جماعت بن گئی۔
اپنی حکومتوں کے دوران مسلم لیگ (ن) نے معیشت اور معاشرے کے مختلف شعبوں میں اصلاحات متعارف کروائیں۔ اس کے پہلے دور حکومت کی توجہ کاروبار دوست اقدامات پر مرکوز رہی جن میں ڈی ریگولیشن، لبرلائزیشن اور نجکاری شامل تھی۔
دوسرے دور حکومت میں مالیاتی شعبے میں اصلاحات متعارف کروائی گئیں، جن میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو زیادہ خودمختاری دینا، سرکاری کنٹرول والے بینکوں میں تبدیلیاں اور پیشہ ورانہ انتظام کا تعارف شامل تھا۔ کیپٹل مارکیٹس اور زراعت کے شعبے میں بھی اصلاحات کی گئیں۔
حکومت نے تعمیر وطن پروگراموں کے تحت عوامی فلاح و بہبود اور نچلی سطح پر ترقیاتی اقدامات کا بھی آغاز کیا جن کا مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا تھا۔
>متعدد بڑے بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں کا بھی آغاز کیا گیا، جن میں کراچی اور لاہور میں ہوائی اڈے، موٹر ویز، قومی شاہراہوں کی دوہری کاری، کوہاٹ ٹنل، مکران کوسٹل ہائی وے، گوادر ڈیپ سی پورٹ، غازی بروتھا ہائیڈل پروجیکٹ اور چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ شامل ہیں۔
دیگر اقدامات میں ڈیجیٹل اور فائبر آپٹک ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس کی ترقی، گردے کے غریب مریضوں کا مفت علاج، لیبر کالونیاں، بے زمین افراد میں سرکاری اراضی کی تقسیم، ہزاروں کلومیٹر طویل فارم ٹو مارکیٹ سڑکوں کی تعمیر، دیہات کی بجلی کاری اور آبی وسائل کی ترقی و تحفظ کے منصوبے شامل تھے۔
ایٹمی دھماکے اور جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد
مسلم لیگ (ن) کی قیادت اپنی حکومت کو پاکستان کے 28 مئی 1998 کو ایٹمی تجربات کرنے کے فیصلے کا سہرا بھی دیتی ہے، جس نے بین الاقوامی دباؤ کے باوجود ملک کو ایک ایٹمی طاقت بنا دیا۔
12 اکتوبر 1999 کو منتخب مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا تختہ فوجی قبضے کے ذریعے الٹ دیا گیا۔ جماعت نے بعد ازاں نواز شریف کی قیادت میں ایک سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا، اور اپنی کوششوں کو جمہوریت، آئینی بالادستی اور جمہوری اداروں کی بحالی کی مہم قرار دیا۔
مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ اس کی سیاسی جدوجہد اور اصولی موقف نے پارٹی کو پاکستان میں حقیقی جمہور کی بحالی کے لیے کوششوں کی علامت بنا دیا ہے۔
