بینچ مارک انڈیکس 318 پوائنٹس گر کر 155,858 پر آیا
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کے روز ابتدائی 2,000 پوائنٹس سے زائد کی ریلی کے بعد منفی رجحان دیکھنے میں آیا، جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اچانک اضافہ بتائی گئی۔
بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس نے 318.65 پوائنٹس یا 0.2 فیصد کی کمی کے ساتھ 155,858.47 پوائنٹس پر اختتام دیکھا۔ مارکٹ نے دورانِ تجارت 158,624.51 پوائنٹس کی بلندی اور 155,652.35 پوائنٹس کی کم ترین سطح ریکارڈ کی۔
ہرمز کے واقعے نے تیل کی قیمتیں پلٹ دیں
ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں ابتدائی ریلی کی وجہ تیل کی قیمتوں میں کمی اور دیگر مثبت اشارے تھے، لیکن ہرمز کے آبنائے میں کارگو جہاز پر حملے کی اطلاعات نے صورتحال یکدم تبدیل کر دی۔
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے سی ای او احفاز مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ “ہرمز میں جہاز پر حملے کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتوں نے اپنی کمی کا رخ پلٹ دیا۔ بندش کے وقت تیل کی قیمتیں 2 فیصد سے زائد بڑھ چکی تھیں، جس نے مہنگے تیل کے خدشات کو دوبارہ اجاگر کر دیا اور سرمایہ کاروں نے خطرہ کم کرنے کا فیصلہ کیا۔”
بین الاقوامی منڈیوں میں ہلچل
عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہا۔ برینٹ کروڈ کا فی بیرل ریٹ 88.39 ڈالر جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 84.43 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
ایشیائی منڈیوں میں چین کے حفاظتی اور نئی توانائی کے شعبوں میں خریداری دیکھی گئی، تاہم مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے لیے صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل بنا دیا۔
مقامی عوامل کا کردار
عارف حبیب کے احسن مہنتی نے بتایا کہ ابتدائی سیشن میں ادارہ جاتی سرمایہ کاری، تیل کی کم عالمی قیمتوں اور 3.3 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر میں 5.2 فیصد سالانہ اضافے کے اعداد و شمار نے مارکیٹ کو سپورٹ کیا۔
انہوں نے کہا کہ “آئی ایم ایف معاہدے پر دوبارہ بات چیت، ٹیکسوں میں کمی اور علاقائی بحران کے دوران خام تیل کی فراہمی کو یقینی بنانے کی حکومتی یقین دہانی نے پی ایس ایکس میں مثبت سرگرمی کو فروغ دیا۔”
