طویل سیاسی جمود کے بعد تاریخی اقدام
برطانیہ نے مسلم دشمنی کی ایک نئی مشاورتی تعریف جاری کی ہے، جو ایک طویل عرصے سے زیر التوا تھی۔ اس اقدام کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ حکام مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے بدسلوکی کے واقعات کی شناخت اور ان سے نمٹنے کے لیے کس طرح کام کریں۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہونے والی تشویشناک صورتحال
مارچ 2025 تک ختم ہونے والے سال میں انگلینڈ اور ویلز میں تقریباً 4,500 نفرت انگیز جرائم مسلمانوں کو نشانہ بنائے گئے، جو تمام مذہبی بنیاد پر ہونے والے جرائم کا تقریباً نصف ہیں۔ اس ڈیٹا میں ان لوگوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جنہیں غلط طور پر مسلمان سمجھ لیا گیا تھا۔
نئی تعریف کی تفصیلات
یہ نئی تعریف، جو قانونی طور پر پابند نہیں ہے، میں وہ مجرمانہ اعمال شامل ہیں جو مسلمانوں یا مسلمان سمجھے جانے والے افراد کے خلاف ہوں، جیسے:
- تشدد
- توڑ پھوڑ
- ہراساں کرنا
- دھمکیاں
- تعصبانہ دقیانوسی تصورات
حکومت اور مخالفین کے موقف
حکومت کا کہنا ہے کہ اس تعریف کی ضرورت لوگوں کو “ناقابل قبعدشمنانہ رویے” سے بچانے کے لیے ہے جو “ڈرانے اور تقسیم کرنے” کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اظہار رائے کی آزادی کے حقوق میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور مذہبی عقائد، بشمول اسلام، کی قانونی تنقید محفوظ رہے گی۔
تاہم، مخالف اراکین پارلیمنٹ کا خیال ہے کہ یہ تعریف “توہین مذہب کے قانون” کی تخلیق کا خطرہ رکھتی ہے اور مذہبی عقائد کی جائز تنقید اور غیر قانونی نفرت انگیز تقریر کے درمیان لکیر دھندلا دیتی ہے۔
مذہبی اور انسانی حقوق گروپوں کی رائے
مسلم، یہودی اور انسانی حقوق کے گروپوں نے اس تعریف کو ایک تعمیری قدم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اسے احتیاط سے نافذ کیا جائے اور اظہار رائے کی آزادی کو محدود کیے بغیر عملدرآمد کیا جائے تو یہ اداروں کو بدسلوکی کے خلاف زیادہ یکساں ردعمل دینے میں مدد کرے گی۔
