خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ’عمران خان ریلیز فورس‘ کا باقاعدہ رجسٹریشن اور ایفٹر کے بعد حلف برداری کی جائے گی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے جدوجہد کرنے والی ’عمران خان ریلیز فورس‘ کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آج سپریم کورٹ کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہیں قید پی ٹی آئی چیئرمین کی طرف سے ’سٹریٹ موومنٹ‘ کی قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ عدالت کے احکامات ’کوڑے دان میں پھینکے جا رہے ہیں‘ اور دعویٰ کیا کہ پارٹی کے بانی چیئرمین کو اب بھی اپنے ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے۔
فورس کی تشکیل اور طریقہ کار
صوبائی وزیراعلیٰ نے ’عمران خان ریلیز فورس‘ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فورس کا باقاعدہ رجسٹریشن کیا جائے گا اور یہ پرامن جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فورس کے اراکین کی حلف برداری ایڈ الفطر کے فوری بعد پشاور میں کی جائے گی۔
- فورس کا ایک واضح کمانڈ ڈھانچہ ہوگا۔
- کمانڈ کی ذمہ داریاں دینے کا فیصلہ پی ٹی آئی چیئرمین خود کریں گے۔
- کسی بھی جدوجہد کا آغاز کرنے سے پہلے تیاریاں مکمل کر لی جائیں گی۔
آفریدی کے مطابق، یہ تحریک آئین، جمہوریت اور آزاد میڈیا کی بالادستی کے لیے ہوگی۔
عمران خان کی صحت اور سیاسی صورت حال
کھلاڑی سے سیاستدان بننے والے 73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں، جن پر مقدمات کا ایک سلسلہ ہے جسے وہ 2022 میں پارلیمانی ووٹ کے بعد اپنے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سیاسی طور پر محرک قرار دیتے ہیں۔
پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ایک میڈیکل رپورٹ میں یہ انکشاف ہونے کے بعد ان کی رہائی کے لیے اپنی کال میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ میں صرف 15 فیصد بینائی باقی رہ گئی ہے۔ تاہم، حکومت کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم کو بہترین ممکنہ علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت اور عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر علاج سے مطمئن ہیں، لیکن ان کی بہن علیمہ خان اس معاملے کو سیاسی بنا رہی ہیں۔
