دوحہ: قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے اعلان کیا ہے کہ قطر نے ایران کے ساتھ ایک جنگ بندی کا معاہدہ کیا ہے، جس کی ثالثی کا کردار امریکہ کی درخواست پر ادا کیا گیا۔ قطر کے وزیراعظم نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات امریکی فضائی حملے کے بعد کشیدہ ہو گئے ہیں، لیکن ان کا امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آجائیں گے۔
ایران نے اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ میں امریکی کردار کے ردعمل میں قطر میں قائم امریکی ایئربیس پر میزائل داغے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ ایران نے پیشگی اطلاع دے دی تھی۔ بعد ازاں واشنگٹن کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔
قطر کے وزیراعظم نے کہا کہ “جو کچھ ہوا وہ یقیناً ہمارے تعلقات پر اثر ڈالے گا، لیکن ہمیں امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سب کو یہ سبق ملے گا کہ ہمسایہ ممالک کے تعلقات کو کبھی بھی نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ قطر کا جواب سفارتی اور قانونی ہوگا۔
شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے کہا کہ قطر نے امریکی درخواست پر ایران کے ساتھ رابطہ کیا تاکہ جنگ بندی کو ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی جاری رہے گی اور دونوں ممالک کو مذاکراتی میز پر واپس آنے کی تلقین کی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ امریکی فضائی حملوں کے جواب میں ایران نے قطر میں قائم فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ قطر کے وزیراعظم نے واشنگٹن اور تہران کو ایران کے جوہری پروگرام پر معطل مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی بھی تاکید کی۔ قطر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لئے بھی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایک معتبر ذرائع نے بتایا کہ قطر کے وزیراعظم نے ایران کو امریکی تجویز کردہ جنگ بندی پر راضی کیا۔ اس ذرائع کے مطابق، امریکی صدر نے قطر کے امیر سے درخواست کی کہ ایران کو بھی اس معاہدے پر راضی کرنے میں مدد کی جائے۔ اسرائیل نے بھی اس جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم ایران کی جانب سے ابھی تک کوئی رسمی قبولیت نہیں آئی۔
