کوئٹہ (30 ستمبر 2025)۔ منگل کے روز بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فرنٹیئر کور (ایف سی) ہیڈ کوارٹرز کے قریب ایک مصروف سڑک پر ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہو گئے۔ حکام نے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے ڈان ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی تصدیق کی اور بتایا کہ دھماکے میں دس افراد جاں بحق جبکہ بتیس زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر سول ہسپتال اور ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔ سول لائنز پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او امین جعفر نے بھی ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ دھماکے کے بعد آٹھ لاشیں سول ہسپتال لائی گئی تھیں۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) اسپیشل آپریشنز کوئٹہ محمد بلوچ کے مطابق، دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک گاڑی ماڈل ٹاؤن سے حالی روڈ کی طرف مڑ رہی تھی، جو فرنٹیئر کور (ایف سی) ہیڈ کوارٹرز کے بالکل قریب ہے۔
دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کے مناظر ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا فوٹیج میں بھی واضح طور پر دیکھے گئے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کے بعد بلوچستان کے محکمہ صحت نے صوبائی دارالحکومت کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن کے مطابق، کوئٹہ سول ہسپتال، بلوچستان میڈیکل کالج (بی ایم سی) ہسپتال اور ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا ہے اور تمام کنسلٹنٹس، ڈاکٹرز، فارماسسٹ، اسٹاف نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو ہسپتالوں میں موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور اسے “دہشت گردانہ حملہ” قرار دیا۔ بلوچستان حکومت کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں وزیراعلیٰ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ “واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر ردعمل دیتے ہوئے چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “دہشت گرد بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔ عوام اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ہم بلوچستان کو پرامن اور محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔” انہوں نے شہداء کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیا، ان کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ بعد ازاں کوئٹہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ “دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔”
دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسے “خودکش حملہ” قرار دیا۔ ایوان صدر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ “صدر نے کوئٹہ میں فتنہ الخوارج یعنی بھارت کے ایجنڈے پر کام کرنے والے گمراہ انتہا پسندوں کی جانب سے کیے گئے خودکش حملے کی شدید مذمت کی ہے۔” فتنہ الخوارج ایک ایسی اصطلاح ہے جسے ریاست کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور بھارت کے مفادات کی تکمیل کرنے والے عناصر پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ انہوں نے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے بروقت اور مؤثر ردعمل کو سراہا۔ بیان کے مطابق، صدر نے “زخمی ایف سی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور مادر وطن کے دفاع میں ملک کی سیکیورٹی فورسز کے عزم و حوصلے کی تعریف کی۔”
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے بعد میں سول ہسپتال کے دورے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چھ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ایک بڑے دہشت گردانہ منصوبے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز کے قریب دھماکے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔” انہوں نے مزید بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ حالیہ مہینوں میں بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال خراب ہوئی ہے، جہاں ایک عرصے سے جاری شورش میں ملوث دہشت گردوں نے اپنے حملوں کی شدت اور تعدد میں اضافہ کیا ہے۔ بالخصوص کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے زیادہ جانی نقصان پہنچانے اور براہ راست پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے نئے ہتھکنڈے اپنائے ہیں۔

