پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے غیر ملکی ٹی 20 لیگز میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت کے لیے جاری کردہ تمام نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس (این او سی) کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ اس بات کی اطلاع 30 ستمبر 2025 کو ای ایس پی این کرک انفو کی ایک رپورٹ میں دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سمیر احمد سید نے کھلاڑیوں اور ان کے ایجنٹس کو ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں اس فیصلے کا باضابطہ اعلان کیا گیا ہے۔ ای ایس پی این کرک انفو نے اس نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ “چیئرمین پی سی بی کی منظوری کے بعد، غیر ملکی لیگز اور دیگر بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں شرکت سے متعلق تمام این او سیز اگلے احکامات تک روک دیے گئے ہیں۔”
تاحال اس اچانک فیصلے کی وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے۔ تاہم، کچھ اطلاعات کے مطابق پی سی بی کا مقصد کھلاڑیوں کے این او سیز کو کارکردگی کی بنیاد پر ایک نظام سے جوڑنا ہے، جس کے معیار کو ابھی تک عام نہیں کیا گیا۔ بورڈ کا ہدف ہے کہ کھلاڑیوں کو قومی اور مقامی سطح پر بہترین کارکردگی دکھانے کی ترغیب دی جائے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ اس طرح کے جائزے میں کتنا وقت لگے گا اور این او سیز پر موجودہ پابندی کب تک برقرار رہے گی۔
اس فیصلے سے کئی اہم پاکستانی کھلاڑی متاثر ہو سکتے ہیں۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق، دسمبر میں آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں بابر اعظم، محمد رضوان اور شاہین شاہ آفریدی سمیت سات پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت متوقع تھی۔ اس کے علاوہ، متحدہ عرب امارات میں یکم اکتوبر کو ہونے والی انٹرنیشنل لیگ ٹی 20 کے لیے نسیم شاہ، صائم ایوب اور فخر زمان سمیت 16 پاکستانی کھلاڑیوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کا اپنا مقامی فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ، قائد اعظم ٹرافی، 26 اکتوبر سے شروع ہونے والا ہے، جس میں 18 علاقائی ٹیمیں تین گروپس میں تقسیم ہو کر ٹائٹل کے لیے مدمقابل ہوں گی۔ قومی کرکٹ ٹیم نے دو روز قبل ہی ایشیا کپ 2025 کے فائنل میں اپنے روایتی حریف بھارت کے خلاف شکست کھائی تھی، جہاں وہ ٹورنامنٹ میں بھارت سے دو بار پہلے بھی ہار چکے تھے۔ تاہم، اس سے قبل گرین شرٹس افغانستان اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہونے والی ٹی 20 انٹرنیشنل ٹرائی سیریز جیت چکی تھی۔

