اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے منگل کو کہا کہ حکومت کے ایجنڈے میں نئے صوبے بنانے کی کوئی تجویز شامل نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا موجودہ پارلیمانی نظام اور آئینی ڈھانچہ مکمل طور پر موثر ہے۔
ایک نجی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ قرار دیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پارٹی نے پنجاب میں اپنی گورننس اور ترقیاتی کارکردگی کی بدولت عوامی حمایت حاصل کی ہے۔
پیپلز پارٹی پر پروپیگنڈا مہم چلانے کا الزام
رانا ثناء اللہ نے کہا کہاکستان پیپلز پارٹی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پروپیگنڈا مہم کے ساتھ داخل ہوئی ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ (ن) بقیہ مرحلے میں بھی بھرپور کارکردگی دکھائے گی اور بالآخر آزاد کشمیر میں اتحادیوں کے بغیر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی انتخابی عمل پر تنقید کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بلاول بخوبی جانتے ہیں کہ انتخابات شفاف طریقے سے منعقد ہوئے ہیں۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ پیپلز پارٹی حتمی مرحلے کی پولنگ کے بعد نتائج کو قبول کر لے گی۔
آئینی نظام پر اعتماد کا اظہار
نئے صوبوں کی تشکیل سے متعلق تجاویز کے بارے میں سوالات کے جواب میں رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن نے اس حوالے سے کوئی اجلاس منعقد نہیں کیا اور نہ ہی یہ معاملہ زیر غور ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پارلیمانی جمہوری نظام یا 1973 کے آئین میں کوئی خامی نہیں ہے۔ ان کا استدلال تھا کہ اس آئینی ڈھانچے نے گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران سیاسی بحرانوں، فوجی مداخلتوں اور عدم استحکام کے ادوار کے باوجود وفاق کو مربوط رکھا ہے۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ نظام کا نہیں بلکہ آئین کو اس کی حقیقی روح کے مطابق نافذ کرنے میں ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئینی اصولوں پر مکمل طور پر عمل کیا جائے تو موجودہ نظام نتائج دیتا رہے گا۔
