امریکی ایکسیم بینک کا 1.25 ارب ڈالر کا اہم فیصلہ
اسلام آباد: پاکستان کے سب سے بڑے کان کنی منصوبے ریکو ڈیق کو اہم مالی معاونت مل گئی ہے، جہاں عالمی قرضہ دہندگان نے 3.5 ارب ڈالر کے قرضے کا پیکیج حاصل کر لیا ہے۔ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ (ایکسیم) بینک نے 1.25 ارب ڈالر کی سہولت کی منظوری دے کر منصوبے کے لیے درکار نصف رقم کا انتظام کر دیا ہے۔
دسمبر کے پہلے نصف تک مکمل مالی اختتام کی توقع
ذرائع کے مطابق 7.7 ارب ڈالر کے اس مشترکہ منصوبے کا مالی اختتام دسمبر کے پہلے دو ہفتوں میں ہونے کی توقع ہے۔ ریکو ڈیق مائننگ کمپنی (آر ڈی ایم سی) کی 9 دسمبر کی بورڈ میٹنگ میں حتمی منظوری کے امکانات روشن ہیں۔
بین الاقوامی اداروں کی شراکت داری
- امریکی ایکسیم بینک: 1.25 ارب ڈالر
- بین الاقوامی فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی): 700 ملین ڈالر
- ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی): 300 ملین ڈالر
- جاپان بینک برائے بین الاقوامی تعاون (جے بی آئی سی): 300 ملین ڈالر
- یورپی ادارے (جرمنی اور سویڈن): 900 ملین ڈالر
بلوچستان کے مفادات کا تحفظ
منصوبے کی ملکیت میں بارک گولڈ کارپوریشن 50 فیصد، پاکستان کی حکومت 25 فیصد اور بلوچستان حکومت 25 فیصد حصہ دار ہے۔ اس ڈھانچے کے تحت بلوچستان کو آمدنی میں حصہ ملے گا لیکن اسے ابتدائی مالی ذمہ داریاں اٹھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ریلوے انفراسٹرکچر کی ترقی
آر ڈی ایم سی نے پاکستان ریلوے کی مین لائن 2 اور مین لائن 3 کی ترقی کے لیے 390 ملین ڈالر کی برج فنانسنگ کا وعدہ کیا ہے، جو کان اور پورٹ قاسم کے درمیان رابطے کو بہتر بنائے گی۔ یہ کام 2028 میں پیداوار شروع ہونے سے پہلے مکمل ہو جائے گا۔
بین الاقوامی تجارتی شرائط
قرضوں کی شرائط پر تفصیلی مذاکرات جاری ہیں، جبکہ تنازعات کے حل کے لیے لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن کو حتمی اتھارٹی مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبے کی تعمیراتی سرگرمیاں 2023 سے تیزی سے جاری ہیں اور 2028 میں تانبے اور سونے کی برآمدات کا آغاز متوقع ہے۔




