واشنگٹن: امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والے دہشت گردانہ حملے تشویش کا باعث ہیں اور امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے۔
افغان طالبان پر موثر اقدامات نہ کرنے کا الزام
امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ افغان طالبان نے اپنی سرزمین سے دہشت گردانہ حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے، اور طالبان کی ناکافی کارروائی کے سبب پاکستان نے خود اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ پاکستان کے ان خدشات سے واقف ہے اور یہ نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گردی کا ہدف بنے۔
یوکرین جنگ: امن مذاکرات پر غیر یقینی
یوکرین کی جنگ کے حوالے سے مارکو روبیو نے کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ مذاکرات کے ذریعے یوکرین میں امن ممکن ہو سکے گا یا نہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدہ قریب ہے، تاہم امریکہ ایک انتہائی تباہ کن جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یوکرین کا دارالحکومت کیف ہر رات توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر تباہ کن حملوں کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ روس میں بھی ہر ماہ بیس ہزار افراد کے ہلاک ہونے کے ساتھ شہری ہلاکتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
جنگ کی شدت پر تشویش
جنگ کی شدت اور تباہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ انتہائی مہلک اور تباہ کن جنگ ہے، اور ہر گزرتے ماہ کے ساتھ تباہی اور جانی نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے۔
- امریکہ پاکستان کے افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خدشات کا حامی ہے۔
- روبیر نے افغان طالبان کے ناکافی اقدامات کی طرف اشارہ کیا۔
- یوکرین میں امن معاہدے کے قریب ہونے کی کوئی تصدیق نہیں۔
- کیف پر توانائی کے ڈھانچے کے خلاف راتوں رات حملے جاری ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ امریکہ اس تباہ کن جنگ کو روکنے اور امن کے ایک قابلِ عمل راستے کی تلاش کے لیے کوشاں ہے۔
