اسلام آباد: روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کی پیشکش کی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بارڈر کراسنگ کی بحالی پر زور دیا ہے۔ یہ پیشکش اسلام آباد میں پاکستان-روس تعلقات کے موضوع پر منعقدہ ایک تقریب کے دوران سامنے آئی۔
افغان سرزمین سے دہشت گردانہ دراندازی پر تشویش
اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز سے خطاب کرتے ہوئے روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے جلد حل اور بارڈر کراسنگ کی بحالی کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردوں کی دراندازی کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا اور سرحدی بندش کے علاقائی تجارت پر پڑنے والے اثرات کا بھی ذکر کیا۔
روسی سفیر کے اس بیان سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ماسکو خطے میں استحکام کو اہمیت دیتا ہے اور سرحدی تنازعات کے پرامن حل کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
دہشت گردی کے خلاف تعاون کی راہیں
اسی تقریب میں روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے بھی شرکت کی اور دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کی روک تھام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شعبے میں تعاون کے مواقع پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے حالیہ دنوں روسی وزیر داخلہ کے دورہ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے نے باہمی تعاون کی نئی راہیں کھول دی ہیں۔
پاکستانی سفیر نے زور دیا کہ بڑھتی ہوئی سیاسی وابستگی کو عملی تعاون میں تبدیل کرنا ضروری ہے، جس سے تجارت، طلبہ کی نقل و حرکت اور علاقائی رابطے مضبوط ہوں۔
اقتصادی اور تعلیمی روابط کی مضبوطی
سفیر ترمذی نے علاقائی سلامتی پر تفصیل سے بات کی اور روس کے ساتھ مضبوط اقتصادی، تعلیمی اور عوامی روابط کی ضرورت پر زور دیا۔
- تجارت اور رابطے کے حوالے سے ویزا سہولت، براہ راست پروازوں اور بینکنگ و ادائیگی کی رکاوٹوں کے حل کو ترجیح دی گئی۔
- دو طرفہ بزنس فورم کی تیاریوں کا خاکہ پیش کیا گیا، جس میں کمپنیوں کے درمیان پیشگی ملاقاتیں شامل ہیں۔
- ایران، افغانستان اور چین کے ذریعے ٹرانسپورٹ رابطوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
- یونیورسٹی شراکت داری، طلبہ کی نقل و حرکت اور سائنس، انجینئرنگ اور زراعت میں تعاون پر زور دیا گیا۔
انہوں نے روسی زبان کی تعلیم، ثقافتی تبادلوں اور دونوں ممالک کے میڈیا اور تخلیقی شعبوں کے درمیان قریبی رابطے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
علاقائی رابطے اور سفارتی کوششیں
ماہرین کے مطابق روس کی یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔ پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی وابستگی کو عملی شکل دینے کے لیے دونوں سفیروں کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ تجارت، تعلیم اور عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرحدی کشیدگی کا حل اور بارڈر کراسنگ کی بحالی نہ صرف دونوں ہمسایہ ممالک بلکہ پورے خطے کی معاشی خوشحالی کے لیے اہم ہے، اور روس کا ثالثی کا کردار اس حوالے سے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
