ماسکو: روس میں کریملن کے حامی ایک سرگرم شخص نے پیزا کو “مغربی سافٹ پاور” قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اطالوی کھانا روسی نوجوانوں کی غذائی عادات پر منفی اثر ڈال رہا ہے اور قومی پکوانوں کو پیچھے دھکیل رہا ہے۔
پیزا کو ’کارٹن کے ڈبے میں مغربی سافٹ پاور‘ قرار دیا
وٹالی بوروڈن، جو فیڈرل سیکیورٹی اینڈ اینٹی کرپشن فنڈ کے سربراہ ہیں اور کریملن کے حامی کارکن کے طور پر جانے جاتے ہیں، نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں پیزا کو “کارٹن کے ڈبے میں بند مغربی سافٹ پاور” کہا۔ فرانسیسی اخبار کے مطابق، انہوں نے روسی یونیورسٹیوں اور اسکولوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے کینٹینوں کے مینو سے پیزا ہٹا دیں اور اس کی جگہ روسی روایتی پکوانوں کو نمایاں مقام دیں۔
بوروڈن نے شکایت کی کہ پیزا روسی نوجوانوں کی خوراک کا ایک اہم حصہ بنتا جا رہا ہے، جبکہ وہ اپنے ملک کے روایتی کھانوں سے ناواقف ہو رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نوجوان نسل “ایک بھی روسی پکوان کا نام نہیں بتا سکتی”۔
غیر ملکی ناموں اور اشتہارات پر بھی پابندی کا مطالبہ
وٹالی بوروڈن نے صرف کھانوں تک محدود نہیں رہے بلکہ عوامی مقامات پر غیر ملکی حوالوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے خلاف بھی آواز اٹھائی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ دکانوں کے بورڈز اور اشتہارات میں غیر ملکی تجارتی ناموں کے ساتھ روسی ترجمہ لازمی قرار دیا جائے۔
- انہوں نے “پیزیریا” اور “پیپرونی” جیسے اطالوی کھانوں سے متعلق ناموں کی مثال دی۔
- ان کا کہنا ہے کہ روسی معاشرے میں مغربی طرز زندگی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
- انہوں نے خبردار کیا: “پہلے پیزا آتا ہے، پھر ہالووین”۔
بوروڈن کے مطابق، یہ مغربی اثر و رسوخ پہلے غذائی عادات میں داخل ہوتا ہے اور بعد ازاں معاشرے کے دیگر پہلوؤں کو بھی متاثر کرتا ہے۔
یوکرین جنگ اور اٹلی پر تنقید
اس پوسٹ میں بوروڈن نے یوکرین جنگ میں اٹلی کی جانب سے کیف کی حمایت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے لکھا کہ “اٹلی دشمن ریاستوں کی فہرست میں شامل ہے اور کیف حکومت کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے”۔ واضح رہے کہ مارچ 2022 سے اٹلی ماسکو کی جانب سے “غیر دوست” قرار دیے گئے ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جس میں یورپی یونین کے تمام رکن ممالک شامل ہیں۔
بوروڈن اس سے قبل بھی کریملن کے ناقدین اور یوکرین جنگ کے مخالف شخصیات کے خلاف اپنے مؤقف کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں۔ انہوں نے گلوکارہ آلا پوگاچیوا کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی تھی اور کئی دیگر شخصیات کو غیر ملکی مفادات کا حامی قرار دیا تھا۔
روس میں مغربی ثقافت کے خلاف بڑھتی ہوئی مہم
یہ مطالبہ روس میں مغربی ثقافتی اثرات کے خلاف جاری وسیع تر مہم کا حصہ ہے۔ حالیہ برسوں میں روسی حکام نے متعدد مواقع پر مغربی تہواروں اور روایات کو قومی شناخت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ تاہم، تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مہمات دراصل حکومت کی توجہ عوام کے اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش ہیں۔
بوروڈن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روسی معیشت پر بین الاقوامی پابندیوں کے اثرات جاری ہیں اور حکومت عوامی سطح پر قومی شناخت اور روایات کے تحفظ پر زور دے رہی ہے۔
