روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی میں بدھ 12 اگست کو ہونے والے جوابی حملوں میں چار شہری ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق روسی سرزمین پر یوکرینی ڈرون حملے میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ یوکرین میں روسی حملوں کے نتیجے میں دو دیگر افراد مارے گئے۔
روس میں ڈرون حملے کی تباہ کاری
ایک روسی علاقائی گورنر نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں بتایا کہ یوکرین کے ڈرون حملے میں ایک 8 سالہ بچہ بھی ہلاک ہوا، جبکہ 8 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب اس نے اپنی سرزمین اور بحیرہ اسود کے اوپر 502 یوکرینی ڈرون مار گرائے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نیوروسیسک میں واقع روسی بحری اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی، جسے انہوں نے “بحیرہ اسود میں روسی بحری بیڑے کا آخری بڑا گڑھ” قرار دیا۔ یہ اڈہ محاذ سے 300 کلومیٹر سے زیادہ دور ہے۔ صدر کے مطابق اس حملے میں فضائی دفاعی تنصیبات اور بندرگاہی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
یوکرین میں روسی جارحیت جاری
دوسری جانب یوکرین کے کئی علاقے روسی حملوں کی زد میں رہے۔ مقامی حکام کے مطابق جنوبی شہر خیرسون میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ یہ شہر محاذ کی لکیر کے بالکل قریب واقع ہے۔ زاپوریژیا کے علاقے میں ایک ڈرون نے بس کو نشانہ بنایا، جس سے ایک شخص زخمی ہو گیا۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے رات کے وقت میزائل اور 138 ڈرون داغے، جن میں سے 112 کو مار گرایا گیا یا ان کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ تاہم، فضائیہ نے کسی میزائل کو روکنے کا ذکر نہیں کیا۔
محاذ پر حملوں میں خطرناک اضافہ
روس کے یوکرین پر حملے کو ساڑھے چار سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ گزشتہ چند مہینوں میں دونوں اطراف سے حملوں میں نمایاں شدت آئی ہے، جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
