چھ نابالغوں نے 15 سالہ لڑکی کو دھوکے سے بلوا کر بری طرح پیٹا
فرانس کے شہر سینٹ ایتھینے میں ایک 15 سالہ لڑکی کو چھ نابالغوں نے دھوکے سے ایک مقام پر بلوا کر بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے کی ویڈیو بنائی گئی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم سنیپ چیٹ پر شیئر کی گئی۔
تشدد کی ہولناک تفصیلات
رپورٹس کے مطابق لڑکی نے حملہ آوروں میں سے ایک نوجوان کو حال ہی میں ایک ذاتی ویڈیو بھیجی تھی۔ پیر کے روز جب وہ سینٹ ایتھینے کے ڈیزائن ڈسٹرکٹ کے قریب طے شدہ ملاقات کے لیے پہنچی تو اس کا سامنا تین لڑکوں اور تین لڑکیوں سے ہوا۔ حملہ آوروں میں پانچ نے اسے بری طرح پیٹا جبکہ چھٹے نے پورا واقعہ ویڈیو میں ریکارڈ کیا۔
لڑکی کو چہرے پر مارا گیا، زمین پر گھسیٹا گیا اور اس کے ذاتی سامان چھین لیے گئے۔ اینٹی کرائم بریگیڈ نے اسے شدید صدمے کی حالت میں پایا۔ اسپتال میں طبی معائنے کے بعد اسے مختلف چوٹوں، سوجن اور زخموں کی بنیاد پر پانچ دن کی مکمل طبی آرام کی سفارش کی گئی۔
تمام ملزمان گرفتار، عدالتی کارروائی کا اعلان
پولیس نے 45 سیکنڈ کی ویڈیو ضبط کرلی اور واقعے کے دن ہی چھوں نابالغ ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ رپورٹس کے مطابق تمام ملزمان نے حملے میں اپنی شمولیت تسلیم کی ہے۔ ان میں سے صرف ایک پہلے سے ہی عدالت کے علم میں تھا۔
- ملزمان پر “اجتماعی اور پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت جان بوجھ کر تشدد” کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
- ان پر “موقع کی بنیاد پر متاثرہ کے سامان کی چوری” کا بھی الزام ہے۔
- جس نے ویڈیو بنائی اس پر “تشدد میں معاونت اور تشدد کی ویڈیو کی تشہیر” کے الزامات ہیں۔
ملزمان کو عدالتی پابندیاں
تمام ملزمان کو بچوں کی عدالت میں 8 اپریل کو پیشی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ پانچ ملزمان کو عدالتی کنٹرول کے تحت رکھا گیا ہے جس کی شرائط میں شامل ہیں:
- شام 10 بجے سے صبح 6 بجے تک گھر میں رہنے کی پابندی
- ایک دوسرے اور متاثرہ سے رابطے پر پابندی
- کام کرنے یا تربیتی کورسز میں شرکت کی ذمہ داری
چار ملزمان کو طبی علاج کی پابندی جبکہ تین کو کسی ادارے میں رکھے جانے کی شرائط پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ واقعہ فرانس میں نوعمر افراد کے درمیان تشدد اور سوشل میڈیا کے منفی استعمال کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔
