اپیل کی عدالت نے بچی لیزا کے قتل کے جرم میں سابق ملازمہ کو عمر قید کی سزا سنائی
فرانس کے شہر لیون میں ایک نرسری کی سابق ملازمہ کو 11 ماہ کی بچی لیزا کے منہ میں ڈرین کلینر کا محلول ڈالنے کے جرم میں 30 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ جمعہ کے روز اپیل کی عدالت نے میریم جاؤن کو قتل کے جرم میں مجرم قرار دیتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔
پہلی عدالت سے زیادہ سخت سزا
سال 2025 میں پہلی عدالت نے ملزمہ کو 25 سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ اپیل کی عدالت نے اس سزا میں 5 سال کا اضافہ کرتے ہوئے 30 سال قید مقرر کی ہے۔ عدالت نے 20 سال کی سیکیورٹی مدت بھی طے کی ہے جس کے بعد ہی رہائی پر غور کیا جاسکے گا۔
کیس کی تفصیلات
واقعہ 2022 میں پیش آیا جب 27 سالہ میریم جاؤن نے پیپل اینڈ بیبی نامی نرسری میں 11 ماہ کی لیزا کے منہ میں ڈیسٹاپ نامی ڈرین کلینر ڈال دیا۔ بچی کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن 4 گھنٹے تک شدید تکلیف میں رہنے کے بعد اس کی موت واقع ہو گئی۔
ملزمہ کے بیانات اور عدالتی کارروائی
ملزمہ نے ابتدا میں واقعے سے انکار کیا لیکن بعد میں اعتراف کیا کہ اس نے یہ عمل کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد بچی کو رونے سے روانا تھا، نہ کہ قتل کرنا۔ تاہم، عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈرین کلینر کی خطرناک نوعیت سے ہر شخص واقف ہوتا ہے۔
ماہرین نفسیات کی رپورٹ
عدالت میں پیش ہونے والے ماہرین نفسیات نے ملزمہ کو ذہنی طور پر نابالغ اور معتدل درجے کی ذہنی کمزوری کا شکار قرار دیا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملزمہ کو کوئی ذہنی بیماری نہیں تھی جو اس کے فیصلے کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی۔
بچے کے والدین کا ردعمل
لیزا کے والدین صوفی اور فیبیو نے پہلی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔ عدالت میں موجودگی کے دوران جب ملزمہ نے معافی مانگی تو بچی کی ماں نے سر ہلا کر واضح انکار کا اظہار کیا۔
وکیلان کے دلائل
خاندان کی وکیل کیتھرین برگاڈے نے کہا کہ “25 سال کی سزا یہ کہنے کے مترادف تھی کہ آپ نے لیزا کو مارنے کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ یہ بات نہ والدین کے لیے قابل قبول ہے نہ ہی لیزا کے لیے۔”
ملزمہ کی دفاعی پوزیشن
ملزمہ کے وکیلوں نے کہا کہ ان کی موکل کو بچوں کی دیکھ بھال کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا اور اسے نرسری میں ملازمت ہی نہیں دینی چاہیے تھی۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ سزا کے ساتھ ساتھ ملزمہ کی بحالی پر بھی غور کیا جائے۔
عدالتی فیصلے کی اہمیت
یہ فیصلہ نرسریوں میں بچوں کی حفاظت کے انتظامات پر سوال اٹھاتا ہے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ملزمہ کی نااہلی کے بارے میں اس کے ساتھیوں نے شکایات کی تھیں، پھر بھی اسے بچوں کے ساتھ اکیلے چھوڑا گیا۔

