راولپنڈی: سعودی عرب کے نئے تعینات سفیر ڈاکٹر راجح تمیمی البغامی نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقے کی موجودہ سلامتی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر اطمینان
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں عہدیداروں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور دفاعی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور اسٹریٹجک رابطہ کاری کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی سفیر کو ان کی تعیناتی پر مبارکباد دی اور اپنی نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دورِ سفارت پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
دفاعی تعاون اور ادارہ جاتی روابط
ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور اسٹریٹجک رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ملاقات اس عزم کا اظہار ہے کہ اسلام آباد اور ریاض دفاعی و سلامتی امور پر قریبی رابطہ کاری جاری رکھیں گے۔
- علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال
- مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پیش رفت کا جائزہ
- دفاعی تعاون اور اسٹریٹجک رابطہ کاری کو مضبوط بنانے پر اتفاق
- دیرینہ برادرانہ تعلقات کے تسلسل پر زور
مشترکہ عقیدہ اور باہمی اعتماد کی بنیاد
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مشترکہ عقیدے، باہمی اعتماد اور مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد پر قائم ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب سفارتی، اقتصادی اور دفاعی شعبوں میں قریبی تعلقات رکھتے ہیں، جبکہ سلامتی تعاون دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات کا اہم حصہ ہے۔
جی ایچ کیو میں ہونے والی اس ملاقات نے دونوں فریقوں کو علاقائی پیش رفت کا جائزہ لینے اور نئے سفیر کے دور میں ادارہ جاتی تعاون اور اسٹریٹجک رابطہ کاری کو مزید گہرا کرنے کے طریقوں پر گفتگو کا موقع فراہم کیا۔
