کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان جیسے تجربہ کار سیاستدان سے مایوس کن بیانات سننے کو مل رہے ہیں، جبکہ خود مولانا کو بھی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ دہشت گردی کے خلاف ایک واضح اور غیر مبہم موقف اختیار کریں گے۔
پیپلز پارٹی کو دہشت گردی سے نقصان
ڈان نیوز کے مطابق، شرجیل میمن نے کہا کہ ان کی جماعت نے دہشت گردوں کے ہاتھوں بھاری نقصان اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم شہریوں کا خون بہتا رہا اور نوجوانوں کی شہادتیں ہوتی رہیں، ایسے میں دہشت گردی پر خاموشی یا نرم گوشہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔
پی ٹی آئی پر سخت تنقید
سینئر صوبائی وزیر نے پی ٹی آئی پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ پی ٹی آئی نے دہشت گردوں سے نرم گوشہ رکھ کر اپنی حکومت کھو دی۔ ان کے بقول پی ٹی آئی کے بانی دہشت گردوں کے لیے دفاتر کھولنے کی باتیں کرتے رہے، اور آج پی ٹی آئی اپنے ہی فیصلوں کے نتائج بھگت رہی ہے۔
- شرجیل میمن نے مولانا فضل الرحمان سے دہشت گردی کے خلاف واضح موقف کی اپیل کی۔
- انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے دہشت گردی کے ہاتھوں بھاری نقصان اٹھایا ہے۔
- پی ٹی آئی پر دہشت گردوں سے نرم گوشہ رکھنے کا الزام عائد کیا گیا۔
گورنر خیبر پختونخوا کا مؤقف
واضح رہے کہ اس سے قبل گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا تھا کہ صوبائی حکومت مولانا فضل الرحمان کے بغیر بھی بنائی اور چلائی جا سکتی ہے۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مولانا کی حالیہ تقریر پر شدید مایوسی کا اظہار کیا اور صوبے میں گورنر راج کے حوالے سے ان کے موقف سے اختلاف کیا۔ گورنر نے کہا کہ انہیں ایک سینئر سیاستدان سے ایسے ریمارکس کی توقع نہیں تھی۔
