عوام کو ریلیف دینے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام وسیع کیا جائے گا
کراچی: سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ صوبے بھر میں عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مسافروں کو ریلیف دینے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دو دن قبل ہی واضح کر دیا تھا کہ صوبے میں عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ نہ کیا جائے۔ اس ہدایت کے بعد ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی۔
ایندھن کی قیمتوں میں ہنگامہ خیز اتار چڑھاؤ
یہ اقدام ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے بعد آیا ہے، جہاں پٹرول کی قیمت 458.41 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم، وزیراعظم شہباز شریف نے ایک دن بعد پٹرول کی قیمت 378 روپے فی لیٹر کر دی اور پیٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کی کمی کی۔
خلیجی خطے میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک نے ایندھن اور توانائی کے تحفظ کے منصوبے متعارف کروائے ہیں۔
ٹرانسپورٹرز کو معاوضہ اور سبسڈی
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بتایا کہ ٹرانسپورٹرز نے حکومتی موقف کی حمایت کرتے ہوئے 28 فروری کے کرایوں پر رہنے پر اتفاق کیا ہے۔ حکومت نے ٹرانسپورٹرز کو یقین دلایا ہے کہ ان کے مالی نقصانات کی تلافی کی جائے گی۔
- رجسٹرڈ بسیں حکومت سے 100,000 روپے فی گاڑی وصول کریں گی۔
- آپریشنل اخراجات بھی حکومت ادا کرے گی۔
- غیر رجسٹرڈ ٹرانسپورٹرز اگر کرایے بڑھائیں گے تو ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں سرکاری بسیں 470 ہیں جبکہ کل 11,000 بسیں صوبے بھر میں چل رہی ہیں۔
موٹرسائیکل سواروں اور کسانوں کے لیے ریلیف
وزیراعلیٰ نے گزشتہ ہفتے بھی ریلیف پیکج کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت:
- ہر رجسٹرڈ موٹرسائیکل سوار کو اپریل کے لیے 2,000 روپے کی سبسڈی براہ راست بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔
- موٹرسائیکل ٹرانسفر فیس معاف کر دی گئی ہے۔
- 25 ایکڑ تک زمین رکھنے والے تقریباً 336,000 چھوٹے کسانوں کو گندم کی گہائی کے لیے ڈیزیل کے اخراجات کے طور پر 1,500 روپے فی ایکڑ ایک ماہ کے لیے دیے جائیں گے۔
ٹارگٹڈ سبسڈی پر زور
وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ ہدف شدہ سبسڈی کم آمدنی والے گروپوں کی مدد کا موثر ترین طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن فوڈ ڈیلیوری سروسز استعمال کرنے والے افراد عام طور پر غربت کی لکیر سے اوپر ہوتے ہیں، اور ایسی خدمات کا خرچہ انہیں برداشت کرنا چاہیے جو انہیں استعمال کرتے ہیں۔
ان اقدامات کا مقصد عالمی ایندھن بحران کے دوران عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کو مستحکم رکھتے ہوئے غریب اور متوسط طبقے کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔
