میڈرڈ/روم: ہسپانیہ نے ہفتے کے روز اپنی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر اٹلی سے آنے والے تمام مسافروں کے لیے عارضی سرحدی کنٹرول نافذ کرنا شروع کر دیے۔ یہ غیر معمولی اقدام اٹلی کی جانب سے شینگن معاہدے کی معطلی کے جواب میں اٹھایا گیا، جس نے یورپی یونین کے دو اہم اتحادیوں کے درمیان سفارتی کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے۔
سیوٹا انکلیو: تنازعے کی جڑ
یہ تنازعہ 30 سے 31 جولائی کے درمیان پیش آنے والے ایک بے مثال واقعے سے شروع ہوا، جب 72,000 سے زائد تارکین وطن نے مراکش سے ہسپانوی علاقے سیوٹا کی سرحد عبور کی۔ شمالی افریقہ میں واقع اس ہسپانوی انکلیو میں مہاجرین کی اس بڑی تعداد کی آمد نے یورپی یونین کے اندر غیر قانونی ہجرت اور بیرونی سرحدوں کے تحفظ پر سخت گیر موقف رکھنے والے ممالک کی شدید تنقید کو جنم دیا۔
اٹلی کا سخت ردعمل اور ہسپانوی برہمی
اطالوی وزیر اعظم جیورجیا میلونی کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت نے اس صورتحال پر فوری ردعمل دیتے ہوئے ہسپانیہ سے آنے والے تیسرے ممالک کے شہریوں کے لیے شینگن معاہدے کی معطلی کا اعلان کیا۔ اٹلی نے واضح کیا ہے کہ وہ از کم 15 اگست تک اس فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
دوسری جانب ہسپانوی حکومت نے اٹلی کے اس اقدام کو “غیر منصفانہ، یورپی یونین کے مفادات کے خلاف اور ہسپانوی عوام کے لیے امتیازی” قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔
یورپی کمشنر کی مداخلت
یورپی کمشنر برائے داخلہ امور و مہاجرت نے ہفتے کے روز ہسپانوی اور اطالوی وزرائے داخلہ سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ایک reassuring لہجے میں بتایا کہ “دونوں نے تصدیق کی ہے کہ یہ داخلی سرحدی کنٹرول عارضی ہیں۔” یہ بیان یورپی یونین کے اندر آزادانہ نقل و حرکت کے اصولوں کو برقرار رکھنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
شینگن معاہدے کا مستقبل
یورپی یونین اور نیٹو کے ان دو اتحادیوں کے درمیان یہ نایاب جھگڑا شینگن زون کے بنیادی اصولوں کے لیے ایک بڑے چیلنج کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس اقدام نے یورپ بھر میں آزادانہ نقل و حرکت کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب براعظم کو مہاجرت کے دباؤ کا سامنا ہے۔
