تین بار کے گرینڈ سلیم چیمپئن اسٹین واورنکا نے منگل کے روز اپنے آبائی شہر باسل میں ہزاروں شائقین کے سامنے اپنا آخری پیشہ ورانہ میچ کھیلا اور 24 سال پر محیط شاندار کیریئر کا اختتام کیا۔ سوئس انڈورز ٹورنامنٹ میں چیک جمہوریہ کے جیری لیہیکا نے انہیں سیدھے سیٹوں میں 7-5 اور 7-6 (2) سے شکست دی۔
واورنکا کا کیریئر: تین گرینڈ سلیم اور اولمپک تمغہ
واورنکا نے گزشتہ سال اعلان کیا تھا کہ وہ 2026 کے سیزن کے اختتام پر ریٹائر ہو جائیں گے، یعنی پیشہ ورانہ زندگی شروع کرنے کے 24 سال بعد۔ 41 سالہ کھلاڑی نے 2014 کے آسٹریلین اوپن فائنل میں رافا نڈال کو شکست دے کر اپنا پہلا بڑا ٹائٹل جیتا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے 2015 کے فرنچ اوپن اور 2016 کے یو ایس اوپن کے فائنلز میں نوواک جوکووچ کو ہرا کر اپنے دیگر دو گرینڈ سلیم ٹائٹل اپنے نام کیے۔
واورنکا نے اپنے کیریئر میں مجموعی طور پر 16 اے ٹی پی ٹائٹل جیتے اور 2014 میں عالمی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر پہنچے، جو ان کی بہترین درجہ بندی تھی۔ انہوں نے 2008 میں راجر فیڈرر کے ساتھ اولمپک ڈبلز طلائی تمغہ بھی جیتا اور 2014 میں سوئٹزرلینڈ کو پہلا ڈیوس کپ ٹائٹل دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
باسل میں جذباتی الوداع
اپنے آخری میچ کے بعد اے ٹی پی ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے واورنکا نے کہا کہ ان کے کیریئر کا واحد مقصد ہر ممکن کوشش کرنا اور کوئی پچھتاوا نہ رکھنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر میچ میں اپنے آپ، حریف، ٹورنامنٹ، شائقین اور سب کے احترام میں سو فیصد محنت کرتے رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیس سال سے زیادہ عرصے تک یہی چیز ان کے لیے سب سے اہم رہی، اور کھیل سے رخصت ہونے کا یہی واحد طریقہ ہے کہ کوئی پچھتاوا نہ ہو۔ باسل میں ان کے آخری میچ کے موقع پر ہجوم نے انہیں کھڑے ہو کر خراج تحسین پیش کیا۔
ٹینس دنیا میں واورنکا کا مقام
واورنکا کو جدید ٹینس کے عظیم کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے، جنہوں نے فیڈرر، نڈال اور جوکووچ کے دور میں اپنی الگ پہچان بنائی۔ ان کی طاقتور بیک ہینڈ اور بڑے میچوں میں شاندار کارکردگی ان کی پہچان رہی۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ٹینس کی ایک یادگار شخصیت میدان سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئی ہے۔
