سوات کے علاقے کبل میں واقع پولیس اسٹیشن کے مرکزی دروازے کے قریب ایک ہولناک خودکش دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں اور شہریوں سمیت کم از کم 14 افراد شہید اور 20 دیگر زخمی ہوگئے۔ پولیس حکام کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس سے اسٹیشن کی عمارت کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔
ریسکیو آپریشن اور تحقیقات کا آغاز
دھماکے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور تمام جاں بحق اور زخمی افراد کو فوری طور پر سینٹرل ہسپتال سوات منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد اور دیگر ضروری کارروائیوں کے لیے پہنچایا گیا۔
حملے کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سوات محمد عمر خان کی قیادت میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بھاری دستہ جائے وقوعہ پر پہنچا۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
خودکش حملہ آور کی شناخت کی کوششیں
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق یہ حملہ ایک خودکش بمبار نے کیا۔ تفتیش کاروں نے جائے وقوعہ سے مشتبہ حملہ آور کا سر برآمد کر لیا ہے، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ دھماکے کی نوعیت اور استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد کا جائزہ لے رہا ہے۔
پولیس نے بتایا ہے کہ ابتدائی شواہد سے یہ شبہ ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور کا تعلق افغانستان سے ہو سکتا ہے، تاہم حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا اور اس حوالے سے تصدیق تحقیقات کی تکمیل کے بعد ہی کی جائے گی۔
مشتبہ سہولت کاروں کی تلاش جاری
علاقے میں مشتبہ سہولت کاروں کی تلاش اور گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔ ڈی پی او محمد عمر خان نے کہا ہے کہ حکام اس حملے کے ذمہ داروں اور کسی بھی قسم کی معاونت فراہم کرنے والوں کی نشاندہی کرکے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔
شہدا اور زخمیوں کی تفصیلات
ہلاک ہونے والوں میں پولیس اہلکار اور عام شہری دونوں شامل ہیں، جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ زخمیوں کو سینٹرل ہسپتال سوات میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
