فرانس کے علاقے کینٹل میں ایک پرائمری اسکول کی ہیڈ ٹیچر کیرولین گرانڈجین کی خودکشی کے بعد کی گئی انتظامی تحقیقات نے اساتذہ کو درپیش مسائل اور انتظامی ناکامیوں پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں اساتذہ کو دی جانے والی سپورٹ میں “اداریاتی ناکامی” تسلیم کی گئی ہے۔
ہم جنس پرستی کے باعث ہراساں کیے جانے کا سلسلہ
رپورٹ کے مطابق، کیرولین گرانڈجین ستمبر 2023 سے اپنی ہم جنس پرستی کے باعث مسلسل ہراساں کیے جانے کا نشانہ بنی تھیں۔ ان کے اسکول کی دیواروں پر “گندی ہم جنس پرست” اور “ہم جنس پرست = پیڈو فائل” جیسے نازیبا الفاظ لکھے گئے تھے۔ یہ ہراساں کرنے کا سلسلہ آخرکار ان کی خودکشی پر منتج ہوا۔
ٹریڈ یونین کا ردعمل: “ایک مضبوط علامت”
اسکول ڈائریکٹرز کے ٹریڈ یونین (ایس ٹو ڈی ای) کے سیکرٹری جنرل تھیری پاجوٹ نے اس رپورٹ کو “ایک مضبوط علامت” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا، “یہ ایک مضبوط علامت ہے کہ قومی تعلیم کا مینجمنٹ کس حد تک زہریلا ہو سکتا ہے۔ یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ جب ہم کسی صورت حال کی نشاندہی کرتے ہیں تو آخرکار ہمیں سنا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے بعد ہائر آرکی کی جانب سے پہلا ہفتہ “مکمل طور پر ناکام” گزرا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ ذمہ دار صرف وہ نامعلوم شخص (“کارو”) نہیں ہے جس نے ہراساں کرنا شروع کیا، بلکہ “قریبی ہائر آرکی” بھی برابر کی ذمہ دار ہے، جس میں ضلعی انسپکشن اور مقامی اکیڈمک ڈائریکٹریٹ شامل ہیں۔
انسانی وسائل کے نظام پر تنقید اور اساتذہ کی حفاظت کا مسئلہ
پاجوٹ نے قومی تعلیم کے انسانی وسائل کے نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 2026 میں بھی یہ نظام درست نہیں ہے اور اس شعبے میں بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ “ضروری ہے کہ ہمارے ضلعی انسپکٹرز، ہماری ہائر آرکی ہماری بات سنیں جب ہم انہیں بتاتے ہیں کہ کوئی چیز درست نہیں ہے۔”
انہوں نے اساتذہ کی حفاظت کے بڑھتے ہوئے خدشات کا بھی اظہار کیا۔ ان کے مطابق، اساتذہ والدین کی جانب سے اسکول کے گیٹ پر مار پیٹ کا نشانہ بن رہے ہیں، بچے اسکولوں میں چاقو لے جا رہے ہیں، اور اساتذہ کو تحفظ نہیں دیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا، “صبح جب ہم بچوں کو اسکول میں خوش آمدید کہتے ہیں اور شام کو انہیں رخصت کرتے ہیں، تو ہم احتیاط کرتے ہیں، دائیں بائیں دیکھتے ہیں، اور ہمیں وہ احساسِ استثنیٰ حاصل نہیں رہا۔”
وکیل کا موقف: “ذاتی غلطی” تسلیم نہ کرنے پر افسوس
واقعے سے متعلق، مرحومہ کی بیوہ کے وکیل نے انتظامی تحقیقات میں کسی بھی فرد کی “ذاتی غلطی” تسلیم نہ کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ یہ موقف اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ محض اداراتی ناکامی کو تسلیم کرنا متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کا مکمل تصور نہیں ہے۔
اس المناک واقعے نے فرانس کے تعلیمی نظام میں اساتذہ کی بہبود، ہراساں کیے جانے کے خلاف مؤثر اقدامات، اور انتظامیہ کی جوابدہی کے سنگین مسائل کو یکسر اجاگر کر دیا ہے۔
