موسمیاتی تبدیلیوں کے سنگین اثرات اب ایک نئے اور پریشان کن انداز سامنے آ رہے ہیں۔ ایک تازہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے ک سنہ 2085 تک فرانس کا 70 فیصد سے زائد حصہ ٹائیگر مچھر سے متاثر ہو سکتا ہے، جو ڈینگی جیسی مہلک بیماریوں کا ح ہے۔ انسٹی ٹیوٹ برائے تحقیق برائے ترقی (IRD) کی اس مطالعے خبردار کیا گیا ہے کہ “کبھی صرف استوائی علاقوں کا مسئلہمجھا جانے والا ٹائیگر مچھر اب فرانس کے لیے ایک قومی خطرہ بن چا ہے۔”
صرف دو دہائیوں میں خطرناک پھیلاؤ
تحقیق کے مطابق، گزشتہ بیس سالوں میں ٹائیگر مچھر کیگی میں ڈرامائی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2004 میں یہ مچھ صرف ایک ڈپارٹمنٹ میں پایا جاتا تھا، لیکن 2025 تکہ تعداد بڑھ کر 81 ڈپارٹمنٹس تک پہنچ گئی۔ سائنسانوں نے موسمیاتی، آبادیاتی اور وبائی اعداد و شمار کی بنیاد پر دو ممکنہ مننامے تیار کیے ہیں۔
- پہلا منظرہ: اگر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بلند رہا اور آبادی میں تزی سے اضافہ ہوا، تو 89 سے 96 فیصد علاقہ مچھر کی افزائش لیے سازگار ہو جائے گا۔
- دوسرا منظرہ: کم اخراج اور ساکن آبادی کی صورت میں بھی 72 فیصد فرانس متر ہوگا۔
ڈینگی کی منتقلی کا موسم طوی ہوگا
محققین نے متنبہ کیا ہے کہ ڈینگی کیقلی کا سیزن بتدریج طویل ہوتا جائے گا، جو موسم بہ میں پہلے شروع ہوگا اور خزاں میں دیر تک جاری رہے گا۔ رپٹ میں خاص طور پر تشویشناک پیشگوئی یہ کی گئی ہے کہ “بحیرہ ر اور باسک کے ساحلی علاقوں میں یہ مچھر سال بھر متحرک رہکتا ہے۔”
موسمیاتی تبدیلی کا فیصلہ کن کردار
تحقیق کے نتائج واضح طور پر بتاتے ہیں کہ مچھر کے پیلاؤ اور ڈینگی کی منتقلی کے خطرے میں 99 فیصد سے زیادہ تبدیلیاں موسمی تبدیلی کے باعث ہوں گی، جبکہ آبادیاتی تبدیلیوں کا کردار نہ ہونے برابر ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت مچھر کے لاروا کی زرخیزی زندگی کی مدت میں اضافہ کرتا ہے اور ان کی نشوونما کو تیز کرتا ہے۔
>یہ مطالعہ اس بات کی ایک اور سنگین یاد دہانی ہے کہ موسمیاتی تبدیلیرف ماحولیاتی نظام ہی نہیں، بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی برہ راست اور بڑھتے ہوئے خطرات کا پیش خیمہ ہے۔
