ممبئی: بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف مبینہ فائرنگ کے واقعے میں محفوظ رہے، تاہم ان کے ڈرائیور اور ایک راہگیر زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ ممبئی کے علاقے جوہو میں اس وقت پیش آیا جب اداکار اپنے کام کی جگہ سے روانہ ہو رہے تھے۔
بھارتی اخبار کے مطابق یہ واقعہ شام تقریباً سات بجے پیش آیا۔ ممبئی زون-II کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس محت گِرگ نے بتایا کہ ٹائیگر شروف کے ڈرائیور فردوس کے بائیں ہاتھ پر گولی لگی، جبکہ ایک راہگیر چوہان بھی زخمی ہوا۔ دونوں زخمیوں کو طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس نے ممبئی پولیس کمشنر دیویندر بھارتی کو ہدایت دی ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ عوام کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور فلم انڈسٹری کو دھمکانے کی کوششوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، “ہماری ترجیح ممبئی کے شہریوں کی حفاظت ہے۔ فلم انڈسٹری کو دھمکانے والوں کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ممبئی نے 1990 کی دہائی میں گینگ وار کا دور پولیس کی مدد سے عبور کیا تھا اور حکام ایسے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو دوبارہ سر اٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
فلم انڈسٹری میں خدشات
فلم انڈسٹری کے ارکان کی نمائندگی کرنے والی تنظیم آل انڈین سین ورکرز ایسوسی ایشن (اے آئی سی ڈبلیو اے) نے ٹائیگر شروف کے واقعے پر صدمے اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ حالیہ حملوں کے سلسلے نے بالی ووڈ شخصیات میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔
ایک بیان میں تنظیم نے سابقہ واقعات کا حوالہ دیا، جن میں اداکار سلمان خان کی بندرہ میں رہائش گاہ کے باہر فائرنگ، اسی علاقے میں اداکار سیف علی خان پر ان کے گھر میں حملہ، فلم ساز روہت شیٹی کی جوہو میں رہائش گاہ کے باہر فائرنگ اور کامیڈین کپل شرما کے کیفے پر بار بار حملے شامل ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ واقعات فلم انڈسٹری کی شخصیات کو نشانہ بنانے، انہیں ڈرانے اور تاوان وصول کرنے کے ایک پیٹرن کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تنظیم نے حکومت اور پولیس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ محض بیانات سے انڈسٹری کی حفاظت کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔
تنظیم نے زور دیا کہ “بالی ووڈ کو حقیقی تحفظ کی ضرورت ہے” اور وزیر اعلیٰ فڑنویس سے مطالبہ کیا کہ حملوں کے پیچھے ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
- مبینہ فائرنگ کرنے والوں اور ان کے حکم دینے والوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ
- فلمی شخصیات کو نشانہ بنانے والے تاوان کے نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے اقدامات
- اداکاروں، فلم انڈسٹری سے وابستہ افراد اور ان کے اہل خانہ کے لیے مناسب سیکیورٹی
- بار بار سیکیورٹی کی ناکامیوں پر جوابدہی
سوشل میڈیا پر ذمہ داری کا دعویٰ
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک غیر تصدیق شدہ سوشل میڈیا پوسٹ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پوسٹ میں مبینہ طور پر دھمکی دی گئی کہ ممبئی کی فلم انڈسٹری میں وہ افراد جو سلمان خان کے ساتھ کام کرتے ہیں اور گروپ کے مطالبات نہیں مانتے، انہیں بھی اسی قسم کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پوسٹ میں مبینہ طور پر کہا گیا، “ممبئی کی انڈسٹری میں جو لوگ سلمان خان کے ساتھ کام کرتے ہیں اور ہماری بات نہیں مانتے، ان کا بھی یہی حشر ہوگا۔”
حکام نے سوشل میڈیا کے اس دعوے پر ابھی تک عوامی سطح پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا اور فائرنگ کے واقعے کے حالات کی تحقیقات جاری ہیں۔
