لندن میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران ہالی ووڈ کے معروف اداکار ٹام کروز نے سنیما انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ٹیکنالوجی چاہے کتنی ہی ترقی کر لے، وہ کبھی بھی انسانی تخلیقی صلاحیت اور جذبات کا متبادل نہیں بن سکتی۔
BAFTA ایونٹ میں اہم گفتگو
بیس ستمبر کو لندن میں منعقدہ “BAFTA: A Life in Pictures” کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں 64 سالہ اداکار نے اپنی فلمی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر میزبان ایڈتھ بومن نے ان سے مصنوعی ذہانت کے بارے میں سوال کیا، جسے کئی حلقے سنیما انڈسٹری کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔
مشن امپاسیبل سیریز کی حالیہ فلموں کا حوالہ دیتے ہوئے، جن میں مرکزی ولن ایک مصنوعی ذہانت ہی ہے، میزبان نے ٹام کروز سے ان کی رائے پوچھی۔ تاہم، اداکار نے کوئی مایوسی کا اظہار نہیں کیا اور چھ منٹ پر محیط ایک تفصیلی جواب دیا جس میں انہوں نے اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کی۔
انسان کی اہمیت پر زور
ٹام کروز نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ مصنوعی ذہانت آ رہی ہے اور یہ پہلے سے موجود بھی ہے، لیکن لوگ ہمیشہ حقیقی چیزیں دیکھنا پسند کریں گے۔ انہوں نے اپنی اداکاری کے دوران خود خطرناک اسٹنٹ کرنے کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی کسی ڈبل یا خصوصی اثرات کے بغیر اپنے کام کو انجام دیتے رہے ہیں۔
اداکار نے اپنی آنے والی فلم “ڈگر” کا بھی ذکر کیا جس میں انہیں روزانہ چھ گھنٹے میک اپ اور مصنوعی اعضاء لگانے کا عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے دور میں تفریحی صنعت سے وابستہ افراد کو “مزید تخلیقی” بننے کی ضرورت ہے۔
تکنیکی ماہرین کی حمایت ضروری
ٹام کروز نے سنیما کی تکنیکی مہارتوں سے وابستہ افراد کی اہمیت پر بھی زور دیا، جن میں میک اپ آرٹسٹ، پروپ ساز، کاسٹیوم ڈیزائنر، آرٹ ڈائریکٹر اور ساؤنڈ ایفیکٹس کے ماہرین شامل ہیں۔ ان کے بقول یہ تمام پیشہ ور افراد سنیما کی “حقیقت پسندی” کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اداکار نے سینما گھروں میں فلمیں دیکھنے کی اہمیت پر بھی بات کی اور کہا کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھنے کا تجربہ منفرد ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔
باکس آفس کی کامیابی کا ذکر
ٹام کروز نے 2026 کے گرمائی سیزن کی تاریخی کامیابی کا بھی ذکر کیا۔ اسپائیڈر مین برانڈ نیو ڈے اور دی اوڈیسی جیسی فلموں کی بدولت امریکی باکس آفس نے 4.76 بلین ڈالر کی کمائی کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ لوگ یہ تجربہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسی لیے سینما گھروں کا رخ کرتے ہیں۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر ٹام کروز نے کہا کہ انہیں ہمیشہ انسانیت پر یقین رہا ہے، جس پر حاضرین نے بھرپور تالیاں بجا کر ان کا جوش بڑھایا۔
- مصنوعی ذہانت انسان کی تخلیقی صلاحیت کا متبادل نہیں بن سکتی
- سنیما کی تکنیکی مہارتیں اور حقیقی تجربہ اہمیت رکھتے ہیں
- سینما گھروں میں اجتماعی تجربہ منفرد اور ناقابلِ تبدیل ہے
- 2026 کے گرمائی سیزن میں باکس آفس کی تاریخی کامیابی
