مصنوعی ذہانت (AI) آج کل ہماری زندگیوں کا اٹوٹ حصہ بنتی جا رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ایک نئی بے چینی بھی جنم لے رہی ہے۔ لوگ اب ہر جگہ AI کی موجودگی کو محسوس کرنے لگے ہیں، چاہے وہ کوئی ادبی تخلیق ہو یا روزمرہ کے پیغامات۔
ادبی دنیا میں تنازعہ
کینیڈین-ہیٹین نژاد مصنف تھیلیسن اوریلین پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے ناول “C’était ça ou mourir” کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تحریر کیا۔ یہ ناول اپنی اشاعت کے وقت ناقدین کی جانب سے بے حد سراہا گیا تھا۔ مصنف نے ان الزامات کی تردید کی ہے، لیکن یہ معاملہ اس دور کی علامت ہے جہاں ہر تخلیق پر شک کی نظر ڈالی جاتی ہے۔
اس تنازعے نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا ہماری تخلیقات میں اصل انسانیت کا وجود باقی رہ گیا ہے؟
روزمرہ زندگی میں بڑھتا ہوا شک
مصنوعی ذہانت کے مسائل صرف ادب تک محدود نہیں ہیں۔ یہ ہماری ذاتی زندگیوں میں بھی گہرائی تک داخل ہو رہے ہیں۔ اب عام بات ہے کہ لوگ اپنے پیغامات، ای میلز اور یہاں تک کہ ڈیٹنگ ایپس پر ہونے والی گفتگو میں بھی AI کی موجودگی کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تیس سالہ الریک، جو ایک ہپنوتھراپی کلینک قائم کر رہے ہیں، بتاتے ہیں کہ وہ اکثر اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے پیغامات کی اصلیت پر شک کرتے ہیں۔ حال ہی میں جب انہوں نے اپنے قریبی لوگوں سے اپنے لوگو اور ویب سائٹ پر رائے مانگی، تو ایک جواب AI کی تحریر سے مشابہت رکھتا تھا۔
اسی طرح، ریڈٹ پر ایک صارف نے ڈیٹنگ ایپ پر اپنے ممکنہ ساتھی کے پیغامات پر شک ظاہر کیا، کیونکہ وہ ChatGPT کی مخصوص طرزِ تحریر سے ملتے جلتے تھے۔ ایک اور صارف نے اپنے بیٹے کے دوست کی والدہ کے جواب پر سوال اٹھایا، جس میں رسمی زبان استعمال کی گئی تھی۔
اصلیت کی تلاش
ماہر نفسیات اولیویئر ڈیورس، جو اسکرینوں سے تعلق کے ماہر ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کے مریضوں میں ابھی تک AI کے استعمال سے متعلق کوئی عام بے چینی نہیں دیکھی گئی۔ تاہم، وہ اوریلین کے ناول کے گرد جاری بحث کو دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔
“اگر یہ معاملہ اتنا شور مچا رہا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ یہ موضوع اہم ہے۔ یہ ہمیں دکھاتا ہے کہ عوام میں کسی سچی اور ایماندار چیز کی تلاش بڑھ رہی ہے،” انہوں نے کہا۔
ڈیورس کے مطابق، جب تخلیق AI پر مبنی ہوتی ہے، تو “ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہمیں بیوقوف بنایا جا رہا ہے، کیونکہ نتیجہ کسی حقیقی فنکارانہ کوشش پر مبنی نہیں ہوتا۔”
سرمایہ دارانہ نظام میں AI
ڈیورس کا خیال ہے کہ AI کو بذات خود تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا، بلکہ اسے سرمایہ دارانہ نظام میں شامل کیے جانے پر سوال اٹھانا چاہیے۔
“یہ نظام منافع کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لیے انسانوں اور معیار کو قربان کر دیتا ہے۔ AI ایسے مواد کو فروغ دیتی ہے جو بے ذائقہ اور ہر جگہ قابلِ قبول ہو۔”
انہوں نے مزید کہا کہ AI کے استعمال سے زبان اور طرزِ اظہار پر بھی اثر پڑ رہا ہے، اور کچھ صارفین تو خود AI کی طرح بولنے لگے ہیں۔
آگے کا راستہ
یہ سوال کہ “AI ہے یا نہیں؟” اب ہماری اسکرینوں کے سامنے ایک مستقل سوال بنتا جا رہا ہے۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت مزید ترقی کرے گی، یہ شک اور بے چینی بھی بڑھتی جائے گی۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس صورتحال میں سب سے اہم چیز اصلیت اور ایمانداری کی قدر کرنا ہے۔ چاہے وہ ادب ہو یا روزمرہ کی گفتگو، انسانوں کو انسانوں سے جوڑنے والی سچی اور خالص بات چیت کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہوگی۔
