واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف منگل کو ایک بڑا فوجی حملہ ملتوی کر دیا تھا، کیونکہ انہیں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے کی امید نظر آئی۔ یہ فیصلہ خلیجی عرب اتحادیوں کی براہ راست درخواست پر کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں نے ان سے کہا کہ “کل ہونے والے منصوبہ بند فوجی حملے کو اس لیے روک دیا جائے کیونکہ ابھی سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے ان کے معاہدے کے خاکوں کو مسترد کرنے کے بعد یہ نیا حملہ تیار کیا گیا تھا۔
بڑے پیمانے پر حملے کی دھمکی برقرار
حملہ ملتوی کرنے کے باوجود، ٹرمپ نے واضح انتباہ جاری کیا کہ انہوں نے امریکی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ “کسی بھی لمحے ایران پر ایک مکمل، بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کے لیے تیار رہے، اگر کوئی قابل قبول معاہدہ طے نہیں پاتا۔”
وائٹ ہاؤس میں بعد ازاں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس صورتحال کو ایک “انتہائی مثبت پیش رفت” قرار دیا اور بتایا کہ عرب اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ایک ایسا معاہدہ قریب ہے جو ایران کو جوہری ہتھیاروں کے بغیر چھوڑ دے گا۔ تہران ہمیشہ سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے عزائم کی تردید کرتا آیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، “ایسا لگتا ہے کہ اس بات کا بہت اچھا امکان ہے کہ وہ کوئی راستہ نکال لیں۔ اگر ہم ان پر بمباری کیے بغیر ایسا کر سکتے ہیں تو میں بہت خوش ہوں گا۔”
ایران کے مطالبات اور آبنائے ہرمز کا انتظام
دوسری جانب، ایران نے پاکستان کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے تبادلوں کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے “تحفظات” سے آگاہ کیا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق، تہران بیرون ملک منجمد اثاثوں کی رہائی، دیرینہ پابندیوں کے خاتمے اور جنگ کے معاوضے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ واشنگٹن سے بات چیت “ہتھیار ڈالنے کے مترادف نہیں” اور ایران اپنی “عزت و وقار” اور حقوق کا دفاع کرے گا۔
دریں اثنا، ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے باضابطہ طور پر ایک نئے ادارے کا اعلان کیا ہے، جسے “پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی” کا نام دیا گیا ہے۔ اس ادارے نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے ذریعے اس اہم آبی گزرگاہ کی “براہ راست اپ ڈیٹس” فراہم کرے گا۔ ایرانی سپاہ پاسداران نے یہ بھی کہا کہ آبنائے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی فائبر آپٹک کیبلز کو ایرانی اجازت ناموں کے نظام کے تحت لایا جا سکتا ہے۔
مذاکرات میں پیش رفت کی امید
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے مذاکراتی ٹیم کے قریبی ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ نے تازہ ترین متن میں ایک نیا قدم آگے بڑھاتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ مذاکرات کے دوران تیل کی پابندیاں معطل کر دی جائیں گی۔
تاہم، فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، واشنگٹن نے ایران کے منجمد اثاثوں کا “25 فیصد بھی” جاری کرنے یا کسی قسم کے جنگی معاوضے کی ادائیگی سے انکار کر دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے پیش کردہ پانچ نکاتی فہرست میں ایران سے صرف ایک جوہری تنصیب کو فعال رکھنے اور اس کے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو امریکہ منتقل کرنے کا مطالبہ شامل تھا۔
عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں پر قابو پانے کی امید میں، امریکی وزارت خزانہ نے سمندر میں موجود روسی تیل کے جہازوں کے لیے پابندیوں کی چھوٹ میں 30 دن کی توسیع کر دی ہے، جس سے ماسکو پر دباؤ کم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
