واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کی زیادہ تر جوہری صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے، تاہم ایک یا دو مقامات پر ابھی کارروائی باقی ہے۔ اس بیان کے بعد تہران نے نئے حملوں کی صورت میں جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے، جس سے خطے میں تنازعے کے دوبارہ بھڑکنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’ہمیں ابھی ایک یا دو مقامات پر کارروائی کرنی ہے، لیکن ہم یہ کام دس منٹ میں کر سکتے ہیں۔ آپ غالباً پک ایکس ماؤنٹین کی طرف دیکھیں، اور اس پر کارروائی ضروری ہے۔ ہم یہ سب بہت جلد کر سکتے ہیں۔‘‘
کوہ کولنگ، جسے انگریزی میں ’’پک ایکس ماؤنٹین‘‘ کہا جاتا ہے، تہران سے تقریباً دو سو کلومیٹر جنوب میں نطنز کے جوہری کمپلیکس کے قریب واقع ہے۔
تنازعے کا پس منظر
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ کشیدگی ۲۸ فروری کو شروع ہوئی تھی۔ اپریل میں ایک جنگ بندی کے ذریعے بمباری روکی گئی اور جون میں تنازعے کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے کا خاکہ طے پایا۔ تاہم گزشتہ موسم گرما میں یہ نازک مفاہمت ٹوٹ گئی، جس کا مرکز آبنائے ہرمز بن گیا۔
امریکی میڈیا نے کئی ہفتوں قبل یہ انکشاف کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ منگل ۳ نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ حملوں پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی رائے دہندگان میں یہ جنگ غیر مقبول ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اس کی وجہ سے ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کا ’تاریخی موقع‘ کا دعویٰ
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس ہفتے کہا کہ امریکی صدر کے ساتھ مل کر ایران کے ’’وجودی خطرے کو مستقل طور پر ختم کرنے‘‘ کا اسرائیل کے لیے ’’ایک منفرد تاریخی موقع‘‘ ہے۔ ایران اسرائیل کا دیرینہ حریف ہے۔
ایران کی سخت دھمکی
اس سے قبل آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے نئے حملوں کی صورت میں ’’فوری، بھرپور اور جغرافیائی حدود سے ماورا جوابی کارروائی‘‘ کی تنبیہ کی تھی۔ ایک تحریری بیان میں انہوں نے کہا، ’’اگر دشمن دوبارہ فوجی یا دہشت گردانہ حملے کریں گے تو اسلامی جمہوریہ کی مسلح افواج اور ایرانی عوام ہی ان کے خاتمے کا وقت اور شرائط طے کریں گے۔‘‘
مارچ کے آغاز میں اپنی تقرری کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہ آنے والے سپریم لیڈر نے فوجی حکام کو ہدایت دی کہ اہداف کی فہرست کو اپ ڈیٹ کیا جائے تاکہ اس میں ’’امریکی صہیونی دشمن کے تمام مادی اور غیر مادی اثاثے‘‘ شامل ہوں۔
ایران پہلے ہی دھمکی دے چکا ہے کہ وہ ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کے نظاموں اور اسٹریٹجک آبنائے ہرمز میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
- امریکہ نے کیف کو پیٹریاٹ میزائل کی فروخت کی اجازت دی، تاہم زیلنسکی کی خوشی نامکمل
- پوپ لیو چودہم کا امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا اعلان، ویٹیکن میں بے مثال اقدام
