واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات پیر کو ہوں گے، لیکن انہوں نے کسی معاہدے کے لیے کوئی ڈیڈ لائن مقرر کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام کے تنازع کو حل کرنے کے لیے فوری معاہدے کی امید میں ایک ممکنہ حملہ ملتوی کر دیا ہے۔
## ٹرمپ کا موقف اور مذاکرات کی تفصیلات
ٹرمپ نے ہفت کی رات اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر کہا تھا کہ ایران اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک نے ایک معاہدہ مکمل کرنے کے لیے وقت مانگا ہے جو آبنائے ہرمز کے “فوری، مکمل اور کلی” دوبارہ کھولنے اور “ایران کے جوہری خطرے کے خاتمے” کا باعث بنے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ تہران کو “جلدی سے معاہدہ کرنا ہوگا۔”
نیو جرسی سے واشنگٹن واپسی پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے اتوار کو بتایا کہ مذاکرات پیر کی دوپہر شروع ہوں گے، لیکن انہوں نے مقام یا شرکاء کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ایران کے لیے معاہدے کی ڈیڈ لائن کے بارے میں پوچھے جانے پر ٹرمپ نے جواب دینے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا، “کیا میں معاہدہ کرنا پسند کروں گا؟ میں لوگوں کو مارنا نہیں چاہتا کیونکہ لوگ مرتے ہیں، بہت سے لوگ مرتے ہیں، اور ہم یہ نہیں چاہتے۔”
## جنگ اور اقتصادی اثرات
ٹرمپ نے بار بار دھمکیاں دی ہیں کہ وہ ایران کے خلاف جنگ میں شدت لائیں گے، جو انہوں نے فروری کے آخر میں اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی تھی، لیکن وہ مذاکرات کے لیے مزید وقت دیتے رہے ہیں۔ اب تک کوئی جامع معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔
ٹرمپ کا یہ ظاہری تناؤ کم کرنے کا اقدام دونوں طرف سے نئے حملوں کی دھمکیوں کے دنوں کے بعد آیا ہے۔ حملے خلیج سے بحیرہ احمر اور مصر میں بحیرہ روم کی ایک تنصیب تک پھیل چکے ہیں۔
ایران نے بڑی حد تک آبنائے ہرمز کو بند کرکھا ہے، جو جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا کی 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی گزرگاہ تھی۔ اس سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی صدر نے دلیل دی ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کا ان کا اعلان کردہ ہدف قریب المدت ایندھن کی بلند قیمتوں کا جواز پیش کرتا ہے، لیکن معاشی مشکلات نے ان پر سیاسی دباؤ ڈالا ہے کہ وہ تنازع ختم کرنے کا راستہ تلاش کریں۔ پیر کے اوائل میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔
## ایرانی سفارت کاری اور علاقائی رابطے
ایران کی سرکاری میڈیا نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان اور پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر سے ٹیلی فونک بات چیت کی ہے تاکہ سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ تہران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات آخری مراحل میں ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ مذاکرات آبنائے کے ذریعے ایک نئے راستے پر اتفاق کرنے پر مرکوز ہیں، اور یہ کہ “آبنائے ہرمز کے کھلنے یا بند ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے۔”
گزشتہ ماہ ایران نے خلیجی ریاستوں کی حمایت یافتہ عمانی تجویز کو عوامی طور پر مسترد کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں آبنائے کے استعمال کے لیے رضاکارانہ فیس کی وصولی شامل تھی۔
## اسرائیل کا موقف
اسرائیل کے توانائی وزیر اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی سیکیورٹی کابینہ کے رکن ایلی کوہن نے کہا کہ خطے میں ہر چیز پر اسرائیل اور امریکہ کے درمیان قریبی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ہم آہنگی موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا: “معاہدے کے ساتھ یا اس کے بغیر، اور خارجی وعدوں سے قطع نظر، اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے یا اپنی بیلسٹک میزائل صنعتوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتا ہے، تو ہم وہاں ہوں گے۔ ہم کارروائی کریں گے، اور ہم حملہ کریں گے۔”
ٹرمپ اور نیتن یاہو منگل کو واشنگٹن میں ملے تھے، اور ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا تھا کہ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر قابو پانے کے تمام ممکنہ راستوں پر غور کیا ہے، بشمول سفارت کاری، معاشی دباؤ اور طاقت۔ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش سے انکار کرتا ہے۔
