واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن اس وقت ایران کے خلاف نسبتاً کم شدت کا رویہ اپنا رہا ہے اور تہران کے خلاف کسی نئی بڑی فوجی کارروائی کی دھمکی نہیں دی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ایکسیوس کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکہ ایران کے ساتھ صرف ‘نیم مذاکرات’ میں مصروف ہے جبکہ ملک کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایران شدید معاشی بحران کا شکار، ٹرمپ
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت شدید مہنگائی اور سنگین معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے پاس خاطر خواہ فنڈز کی کمی ہے اور اسے اپنے فوجی اہلکاروں کو تنخواہیں دینے میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی نے ایران کے معاشی مسائل کو مزید شدت بخش دی ہے۔ تاہم، انہوں نے اشارہ دیا کہ واشنگٹن ایران پر معاشی دباؤ بڑھنے دے گا اور فی الحال کوئی نئی فوجی کارروائی شروع نہیں کرے گا۔
شطرنج کا کھیل، ‘بالآخر سب ٹھیک ہو جائے گا’
ایران کے ساتھ جاری صورتحال کو شطرنج کے کھیل سے تشبیہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ “بالآخر، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا اور امریکہ اور ایران اب بھی “کھیل کے درمیان” ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اس تنازعے سے امریکی صارفین پر دباؤ محدود رہا کیونکہ تیل کی قیمتیں 75 ڈالر فی بیرل سے تھوڑی اوپر ہیں۔
ایران میں 40 روزہ جنگ کے ہلاکتوں کے اعداد و شمار
اس سے قبل ایران کی فرانزک میڈیسن آرگنائزیشن کے سربراہ نے بتایا کہ امریکہ کے ساتھ 40 روزہ جنگ کے دوران 3,519 افراد ہلاک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ اس اعداد و شمار میں حالیہ ہفتوں میں خاص طور پر جنوبی ایران میں امریکہ کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے افراد شامل نہیں ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں تقریباً 3,000 مرد اور 500 خواتین شامل تھیں۔ اہلکار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں 270 طلباء بھی شامل تھے، جن میں سے زیادہ تر میناب کے شجریہ طیبہ اسکول کے طالب علم تھے، جو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے پہلے ہی دن مارے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ متاثرین میں سے 38 پانچ سال سے کم عمر کے بچے تھے۔
