اقوام متحدہ کی جمعرات 29 اکتوبر کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے ممالک اس وقت تقریباً 25 کروڑ 20 لاکھ ہیکٹر رقبے پر قدرتی بحالی (نیچر ریسٹوریشن) کا کام کر رہے ہیں، جو ایک بے مثال سطح ہے، تاہم یہ 2030 کے عالمی اہداف کے حصول کے لیے ناکافی ہے۔
نیروبی میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی جانب سے پریس کانفرنس میں رپورٹ کے نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے ادارے کی ڈپٹی ڈائریکٹر برائے ماحولیاتی نظام ڈورین رابنسن نے کہا کہ “یہ رپورٹ اب تک کی سب سے بڑی بحالی مہم کی عکاسی کرتی ہے۔” اقوام متحدہ کے مطابق یہ رقبہ الجزائر یا ارجنٹائن جیسے ملک کے برابر ہے۔
99 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ آرمینیا میں جاری حیاتیاتی تنوع سے متعلق COP17 کانفرنس کے دوران جاری کی گئی، جہاں ممالک اپنے حیاتیاتی تنوع کے وعدوں میں تاخیر کے بعد صورتحال درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بحالی کی رفتار میں مزید تین گنا اضافہ ضروری
رپورٹ کے مطابق 149 ممالک میں ریکارڈ کی گئی قدرتی بحالی کی کوششیں زیادہ تر زمینی علاقوں پر مرکوز رہیں، جن میں 23 کروڑ 20 لاکھ ہیکٹر شامل ہیں، جبکہ اندرونی آبی علاقوں میں ایک کروڑ 10 لاکھ ہیکٹر اور سمندری و ساحلی پانیوں میں 57 لاکھ ہیکٹر پر کام ہوا۔
تاہم یہ تازہ اور سمندری و ساحلی ماحولیاتی نظاموں کے لیے مقررہ اہداف سے “کافی کم” ہے، جن کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ “خاصی تیزی سے بگڑ رہے ہیں”، جبکہ زمینی بحالی اپنے نصف اہداف تک پہنچ چکی ہے۔
اقوام متحدہ کے 2021 سے 2030 تک کے ماحولیاتی نظام کی بحالی کے عشرے اور 2022 میں منظور شدہ کونمینگ-مونٹریال بین الاقوامی معاہدے کے تحت، جس کا مقصد دہائی کے آخر تک 30 فیصد زمینی اور سمندری علاقوں کا تحفظ ہے، ممالک نے حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنے اور کرہ ارض کے تحفظ کے لیے کوششیں کرنے کا عہد کیا تھا۔
- زمینی بحالی میں چین 13 کروڑ 70 لاکھ ہیکٹر کے ساتھ دیگر خطوں سے کافی آگے ہے۔
- چین کے بعد منگولیا، قازقستان اور ایتھوپیا شامل ہیں۔
- اس بحالی کے نتیجے میں 10 لاکھ ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں، جنہیں 2030 تک 3 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچانے کا ہدف ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک ارب ہیکٹر کے مقررہ اہداف تک پہنچنے کے لیے بحالی کی رفتار میں ابھی “تین گنا” اضافہ کرنا ہوگا، اور مالی وسائل میں خاص طور پر نجی شعبے کی جانب سے نمایاں اضافہ درکار ہوگا۔
