جنیوا میں ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے اگلے ہفتے وینا میں تکنیکی گفت و شنید کا اعلان کیا
جنیوا: امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے اہم مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم طویل گفت و شنید کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ ثالث ملک عمان کے وزیر خارجہ سیّد بدر البوسعیدی نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پوسٹ میں کہا کہ دونوں فریقوں نے اپنے دارالحکومتوں میں مشاورت کے بعد جلد ہی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
عمانی وزیر خارجہ کا ‘اہم پیش رفت’ کا بیان
بدر البوسعیدی نے کہا، “ہم نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں اہم پیش رفت کے بعد آج کا دن ختم کیا ہے۔” انہوں نے بتایا کہ تکنیکی سطح کی بات چیت اگلے ہفتے وینا میں ہوگی۔ عمانی وزیر خارجہ جمعہ کے روز نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر امریکی اہلکاروں سے واشنگٹن میں ملاقات کریں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا امریکہ پر تنقید
ایرانی وزیر خارجہ عباس آراغچی نے جمعہ کے روز کہا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے امریکہ کو اپنی “ضرورت سے زیادہ مطالبات” ترک کرنا ہوں گے۔ انہوں نے مصر کے ہم منصب کے ساتھ فون کال میں کہا، “اس راستے میں کامیابی کے لیے دوسری طرف سے سنجیدگی اور حقیقت پسندی کی ضرورت ہے اور کسی بھی غلط حساب کتاب اور ضرورت سے زیادہ مطالبات سے گریز کرنا ہوگا۔”
علاقائی جنگ کے خدشات کے درمیان مذاکرات
یہ مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب خطے میں جنگ کے بڑھتے ہوئے خدشات موجود ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا کارروائی کی دھمکی دی ہے اور امریکی فوج نے اسلامی جمہوریہ کے قریب پانیوں میں اپنی فوجی قوت جمع کر رکھی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ تازہ ترین سفارت کاری ٹرمپ کے جنگ کا فیصلہ کرنے سے پہلے آخری موقع ہے۔
اہم رکاوٹیں اور مستقبل کے اقدامات
ایران کا اصرار ہے کہ امریکہ اس پر عائد پابندیاں اٹھائے، جبکہ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ قدم صرف تہران کی طرف سے گہری رعایات کے بعد ہی آئے گا۔ دونوں فریقوں کے درمیان جوہری اور غیر جوہری مسائل پر اختلافات برقرار ہیں۔ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات میں لچک دکھائیں گے، جبکہ امریکہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بات چیت پر زور دے رہا ہے۔
خطے میں کشیدگی کی تاریخ
گزشتہ سال جون میں امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے جوہری مقامات پر حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر میزائل داغے تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اس سال جنوری میں اس وقت اور بڑھ گئی جب ٹرمپ نے ایران میں احتجاجی مظاہروں کے خلاف کارروائی پر مداخلت کی دھمکی دی تھی۔
آئندہ راستہ
اگرچہ فوری معاہدہ طے نہیں پا سکا، لیکن دونوں فریقوں کا اگلے ہفتے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق علاقائی جنگ کے فوری خدشات کو کم کر سکتا ہے۔ تاہم، امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کی کمی اور بنیادی اختلافات ایک جامع معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
