خطے میں جنگ کے حالیہ واقعات
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی انتہائی خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کر دیا ہے کہ اگر شہری اہداف پر دوبارہ فائرنگ ہوئی تو وہ تباہ کن جوابی کارروائی کریں گے۔ اس دوران، ایکسوس کی رپورٹ کے مطابق امریکہ، ایران اور ثالث ممالک 45 روزہ جنگ بندی کے لیے کوششیں تیز کر رہے ہیں۔
ایرانی ردعمل اور دھمکیاں
ایرانی ریولوشنری گارڈز (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا ہے کہ ہرمز کے آبنائے کی صورت حال امریکہ اور اسرائیل کے لیے کبھی معمول پر نہیں آئے گی۔ دوسری طرف، ایران کے میزائل حملے میں حیفہ کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 11 اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں جبکہ 4 افراد لاپتہ ہیں۔
اسرائیلی حملوں کی تفصیلات
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے ایران میں ریلوے اور پلوں کو نشانہ بنایا ہے جو ریولوشنری گارڈز استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا، “کل ہمارے پائلٹوں نے ایرانی ایئر فورس بیس پر ٹرانسپورٹ ہوائی جہاز اور درجنوں ہیلی کاپٹر تباہ کیے۔ آج انہوں نے ریولوشنری گارڈز کے استعمال میں آنے والی ریلوے لائنوں اور پلوں کو نشانہ بنایا۔”
بین الاقوامی ردعمل اور سفارتی کوششیں
برطانیہ کے ہائی کمشنر جین ماریٹ نے پاکستان کی ثالثانہ کوششوں کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو موثر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
دیگر اہم واقعات
- ایران میں قید دو فرانسیسی شہریوں کو رہا کر دیا گیا ہے جو فرانس واپس جا رہے ہیں۔
- سعودی عرب کے پٹرولیم اور صنعتی مراکز پر حملوں کی پاکستان کی فوجی قیادت نے سخت مذمت کی ہے۔
- ترکی کے صدر ایردوان نے استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کے باہر حملے کو “غدارانہ حملہ” قرار دیا ہے۔
- اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنی تعیناتی مکمل کر لی ہے۔
- شارجہ میں ایرانی میزائل سے ٹیلی کام عمارت کو نقصان پہنچا جس میں دو پاکستانی شہری زخمی ہوئے۔
سیاسی ردعمل
امریکی سابق کانگریس وومین مارجوری ٹیلر گرین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف دھمکیوں کو “شیطانی اور پاگل پن” قرار دیا ہے۔ انہوں نے امریکی آئین کی 25ویں ترمیم کو استعمال کرتے ہوئے صدر کو عہدے سے ہٹانے کی اپیل کی ہے۔
خطے میں صورت حال انتہائی نازک ہے اور عالمی برادری جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہے۔ تمام فریقین سے پرامن حل کے لیے کام کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔
