خفیہ سفارتی کیبل میں انکشاف، تباہ شدہ جنگی جہاز کے 32 زندہ بچ جانے والوں سمیت 208 اراکین پر بحث
کولمبو: امریکہ سری لنکا پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ تباہ شدہ ایرانی جنگی جہاز کے زندہ بچ جانے والے عملے اور دوسرے بحری جہاز کے قیدی اراکین کو ایران واپس نہ بھیجے۔ رائٹرز کے پاس موصول ہونے والی امریکی محکمہ خارجہ کی ایک خفیہ کیبل میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے۔
ڈینا جہاز کی تباہی اور ہلاکتیں
امریکی آبدوز نے بدھ کے روز سری لنکا کے جنوبی ساحلی شہر گالے سے 19 سمندری میل کے فاصلے پر ایرانی فریگیٹ آئی آر آئی ایس ڈینا کو ٹارپیڈو سے تباہ کر دیا، جس میں درجنوں بحری اہلکار ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ ایران کے ساتھ امریکی تصادم کے جغرافیائی دائرے میں نمایاں توسیع کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
بوشہر جہاز کا سری لنکن تحویل میں آنا
جمعرات کو سری لنکا نے دوسرے ایرانی بحری جہاز بوشہر کے 208 اراکین کو اتارنا شروع کیا، جو ملک کے خصوصی اقتصادی زون میں پھنس گیا تھا۔ صدر انورا کمارا ڈسسانائیکے نے کہا کہ ان کے ملک کی “انسانی ذمہ داری” بنتی ہے کہ وہ عملے کو پناہ دے۔
امریکی سفارتی مواصلات
خفیہ کیبل کے مطابق، کولمبو میں امریکی سفارت خانے کی چارج ڈی افئیرز جین ہاول نے سری لنکن حکومت پر زور دیا ہے کہ نہ بوشہر کے عملے کو اور نہ ہی ڈینا کے 32 زندہ بچ جانے والوں کو ایران واپس بھیجا جائے۔ کیبل میں کہا گیا ہے کہ “سری لنکن حکام کو ایرانی پروپیگنڈے کے لیے قیدیوں کے استعمال کی کوششوں کو کم سے کم کرنا چاہیے۔”
امریکی موقف اور سری لنکن خودمختاری
محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ واشنگٹن سری لنکا کے فیصلے پر حکم چلانے کی کوشش نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ “امریکہ سری لنکا کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور اس صورتحال کو سنبھالنے میں اس کی خودمختاری کو تسلیم کرتا ہے۔”
مستقبل کے اقدامات
سری لنکن حکام نے جمعہ کو کہا کہ وہ بوشہر جہاز کو مشرقی ساحل کی بندرگاہ پر لے جا رہے ہیں اور اس کے زیادہ تر عملے کو کولمبو کے قریب ایک نیوی کیمپ منتقل کر رہے ہیں۔ محکمہ خارجہ کی کیبل میں کہا گیا ہے کہ تنازعہ کے دوران بوشہر جہاز سری لنکن تحویل میں رہے گا۔
بین الاقوامی ردعمل
کیبل کے مطابق، ہاول نے اسرائیلی سفیر کو بتایا کہ عملے کو ایران واپس بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ایرانی حکام نے سری لنکا سے ڈینا جہاز پر ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کی واپسی میں مدد کی درخواست کی ہے، لیکن اس کے لیے وقت کا تعین نہیں کیا گیا۔
