واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ کے 12 ممالک میں امریکی شہریوں کے لیے نایاب نوعیت کا سرخ انتباہ جاری کیا ہے، جس میں امریکی مفادات پر ممکنہ حملوں کے خطرات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ انتباہ یمن کے حوثیوں اور ایران سے منسلک فوجی کشیدگی کے پس منظر میں جاری کیا گیا ہے۔
پورے خطے میں یکساں حفاظتی انتباہات
پیر کے روز مشرق وسطیٰ بھر میں امریکی سفارت خانوں نے یکساں حفاظتی انتباہات جاری کیے، جن میں اسرائیل، سعودی عرب، عراق، لبنان، اردن، قطر، بحرین، کویت، عمان، متحدہ عرب امارات، یمن اور ایران میں مقیم امریکی شہریوں کو انتہائی چوکسی اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انتباہات میں تمام امریکی شہریوں کو ممکنہ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور سفر میں خلل کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے، جو یمن کے حوثیوں اور ایران سے منسلک فوجی کشیدگی کے خطرے سے جڑے ہیں۔
انتباہ میں کیا کہا گیا؟
12 ممالک پر محیط اس انتباہ میں کہا گیا ہے کہ “دشمنی اس فوری علاقے سے آگے تیزی سے بڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہے” اور شہریوں کو “پیشگی طور پر ہنگامی منصوبے تیار کرنے” کی ہدایت کی گئی ہے۔
- انتباہ کے مطابق ایران اور ایران کے حامی گروہ بیرون ملک دیگر امریکی مفادات یا دنیا بھر میں امریکہ اور امریکیوں سے منسلک مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جن میں امریکی کاروبار اور دیگر ادارے شامل ہیں۔
- سعودی عرب میں سفارت خانے نے “پیچیدہ حفاظتی ماحول” سے خبردار کیا اور کہا کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف دشمنی میں ملوث ہو کر شہری ہوائی اڈوں اور دیگر اہم تنصیبات پر حملے کیے ہیں، جن کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں اور سفر میں شدید خلل واقع ہوا ہے۔
- قطر میں امریکی سفارت خانے نے اتوار کے روز شہریوں پر زور دیا کہ وہ سرکاری انتباہات اور مقامی ذرائع ابلاغ پر نظر رکھیں، مظاہروں اور بڑے اجتماعات سے گریز کریں اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔
قطر ایئرویز کی پروازیں معطل
قطر ایئرویز نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب جانے والی اور وہاں سے آنے والی ریاض اور دمام کی پروازیں 24 اکتوبر تک معطل رکھے گی، جبکہ جدہ کے لیے روزانہ پروازوں کی تعداد سات سے کم کر کے چار کر دی جائے گی۔
علاقائی کشیدگی میں اضافہ
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں حوثیوں کے حملوں کے بعد کشیدگی عروج پر ہے۔ رواں ہفتے کے آغاز میں ریاض کے ہوائی اڈے پر حوثیوں کے حملوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 13 تک پہنچ گئی تھی، جس کے بعد متحدہ عرب امارات نے خلیجی دفاع کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی انتباہات اس بات کا اشارہ ہیں کہ واشنگٹن خطے میں ممکنہ فوجی escalation کو سنجیدگی سے لے رہا ہے، اور یہ اقدام امریکی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ایران اور حوثیوں کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خدشے کی عکاسی کرتا ہے۔
