ابو ظہبی: خلیجی ممالک کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا امکان ایک سنگین خطرہ بن کر ابھرا ہے۔ جون کے وسط سے خلیجی ریاستوں نے ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا، خاص طور پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے۔ تاہم، ان ممالک کو اب تہران کی ممکنہ جوابی کارروائیوں کا سامنا ہے، جو امریکی اڈوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ یہ آبنائے خلیج فارس کے لئے ایک اہم تجارتی راستہ ہے۔
خلیجی ریاستوں نے سیاسی بحران کو کم کرنے کے لیے اپیل کی ہے، جبکہ اسرائیل کی جارحانہ رویے اور ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کوششوں نے ان کی جنگی اندیشوں کو بڑھا دیا ہے۔ ہفتے کے آخر میں امریکی حملوں سے قبل، خلیجی رہنماؤں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سفارتی راستے اپنانے کی درخواست کی تھی۔
جمعہ کو اماراتی صدر کے مشیر انور گرگاش نے صحافیوں کے سامنے بات کرتے ہوئے کہا کہ “کشیدگی میں کمی انتہائی ضروری ہے۔ ہمیں اب بھی یقین ہے کہ مذاکرات کے لیے واپسی کا راستہ موجود ہے۔” سعودی تجزیہ کار علی شہابی نے بھی زور دیا کہ ریاض نہ تو کشیدگی کا حامی ہے اور نہ ہی حکومت کی تبدیلی کا۔ اگرچہ سفارتی حل مشکل نظر آتا ہے، لیکن اسے ناممکن نہیں کہا جا سکتا۔ خلیجی ممالک کی یہ کوششیں خطے میں استحکام کو برقرار رکھنے کی جدوجہد کا حصہ ہیں۔
