geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
October 18, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Six Autumn Escapes in France You Can Reach Without a Carفرانس میں بغیر گاڑی کے خزاں کی سیر: چھ خوبصورت مقامات جہاں پبلک ٹرانسپورٹ سے پہنچا جا سکتا ہے
    • The Spoon Revolution: Why a Growing Community Is Ditching the Forkچمچ بمقابلہ کانٹا: کھانے کی میز پر خاموش انقلاب کیوں برپا ہے؟
    • Drought and Heatwaves Halve Ardèche Chestnut Harvest as Europe Braces for Price Risesخشک سالی اور گرمی کی لہروں نے فرانس میں شاہ بلوط کی فصل کو تباہ کر دیا
    صحت و تندرستی
    • Six Autumn Escapes in France You Can Reach Without a Carفرانس میں بغیر گاڑی کے خزاں کی سیر: چھ خوبصورت مقامات جہاں پبلک ٹرانسپورٹ سے پہنچا جا سکتا ہے
    • The Spoon Revolution: Why a Growing Community Is Ditching the Forkچمچ بمقابلہ کانٹا: کھانے کی میز پر خاموش انقلاب کیوں برپا ہے؟
    • Salt Stomping: TikTok's Viral Sleep Hack That Experts Say Doesn't Workسالٹ اسٹامپنگ: کیا نمک پر چلنا واقعی نیند کو بہتر بناتا ہے؟
    دلچسپ اور عجیب
    • Justice Takes the Wheel: French Electro Duo to Score GTA VI Soundtrackجسٹس فرانسیسی الیکٹرو جوڑی جی ٹی اے 6 کی ساؤنڈ ٹریک تیار کرے گی
    • Drought and Heatwaves Halve Ardèche Chestnut Harvest as Europe Braces for Price Risesخشک سالی اور گرمی کی لہروں نے فرانس میں شاہ بلوط کی فصل کو تباہ کر دیا
    • Salt Stomping: TikTok's Viral Sleep Hack That Experts Say Doesn't Workسالٹ اسٹامپنگ: کیا نمک پر چلنا واقعی نیند کو بہتر بناتا ہے؟
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Justice Takes the Wheel: French Electro Duo to Score GTA VI Soundtrackجسٹس فرانسیسی الیکٹرو جوڑی جی ٹی اے 6 کی ساؤنڈ ٹریک تیار کرے گی
    • Ukraine's Drone Campaign Against Russian Data Centers Rattles Kremlin's Digital Infrastructureیوکرین کے ڈرون حملے: روسی ڈیٹا سینٹرز پر نئی جنگ کا محاذ
    • Sophie Adenot Returns to Earth After Record-Breaking 235 Days in Spaceسوفی ایڈینو کا ریکارڈ مشن: 235 دن بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر گزارنے کے بعد واپسی کا سفر شروع
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

یمنی جنگ میں مغربی اور جرمن ہتھیاروں سے ہلاکتوں کا ذمے دار کون؟

February 8, 2019 1 1 min read
Houthi Rebels
Share this:

Houthi Rebels

یمن (جیوڈیسک) مغربی دنیا بشمول جرمنی کی طرف سے متحدہ عرب امارات کو فروخت کیے گئے ہتھیار اس ملک سے انتہائی غریب اور جنگ زدہ ریاست یمن میں مختلف ملیشیا گروپوں تک پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ بڑی تعداد میں انسانی ہلاکتوں کا باعث بن رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام لگایا ہے کہ خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات کو مغربی دنیا کی طرف سے جو ہتھیار مہیا کیے جاتے ہیں، وہ وہاں سے یمن کی خانہ جنگی میں شریک مختلف ملیشیا گروپوں کو پہنچائے جا رہے ہیں۔

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے ابھی حال ہی میں متحدہ عرب امارات کا جو دورہ کیا، اس سے بین الاقوامی سطح پر اس عرب ریاست کی ساکھ مزید مثبت ہوئی کیونکہ پاپائے روم کا یہ دورہ کسی بھی پوپ کا اس ملک کا اولین دورہ تھا۔

پوپ فرانسس کے اس دورے سے یو اے ای کو خود کو ’باہمی برداشت والے ایک معاشرے‘ کے طور پر پیش کرنے کا موقع بھی ملا۔

لیکن اس دورے کے محض چند ہی روز بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک ایسی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں متحدہ عرب امارات پر ہتھیاروں کی غیر قانونی تجارت اور قومی سرحدوں کے پار ترسیل کا الزام لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس تنظیم کی طرف سے کی گئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے یمن میں مختلف ملیشیا گروپوں کو جدید ترین اسلحے سے لیس کیا جا رہا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مغربی ہتھیاروں میں بکتر بند گاڑیاں، مارٹر سسٹم، چھوٹے آتشیں ہتھیار، پستولیں اور بڑی تعداد میں مشین گنیں بھی شامل ہیں، جن کی وسیع تر مقدار ایسے مسلح یمنی جنگی گروپوں تک پہنچ رہی ہے، جن پر کسی بھی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

ایمنسٹی کی اس رپورٹ کے مطابق، ’’ایسے ملیشیا گروپوں پر یمن میں جنگی جرائم کے علاوہ انسانی حقوق کی انتہائی شدید نوعیت کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی لگائے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ ایسے ملیشیا گروپوں کو ان ہتھیاروں کی فراہمی یمن کی پہلے سے تباہ حال شہری آبادی کے لیے اور بھی ہولناک ثابت ہو رہی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے بھی بہت تشویش ناک ہے کہ یمن کی جنگ اب تک ہزارہا عام شہریوں کی جان لے چکی ہے اور لاکھوں انسانوں کو بھوک کے انتہائی شدید مسئلے کا سامنا بھی ہے۔‘‘

انتہائی سنگین نوعیت کے ان الزامات کے باوجود، جو اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات اور یمنی ملیشیا گروہوں پر عائد کیے جاتے ہیں، ابھی کچھ عرصہ قبل ہی یورپ کے برطانیہ، جرمنی، فرانس اور بیلجیم جیسے ممالک نے یو اے ای کو یا تو کئی طرح کی نئے دفاعی برآمدات کی منظوری دی یا پھر ان ممالک سے جدید ہتھیار عملاﹰ اماراتی حکومت کو برآمد کر دیے گئے۔

ایمنسٹی کے مطابق یو اے ای سے ایسے ہتھیاروں کا یمن پہنچایا جانا اس لیے غیر قانونی اور قابل مذمت ہے کہ ہتھیاروں کی تجارت کے بہت سے معاہدوں میں اکثر ایسی شقیں بھی شامل ہوتی ہیں کہ درآمد کردہ اسلحہ بالآخر کہاں پہنچے گا اور کہاں استعمال کیا جائے گا۔

حوثی اور صنعاء حکومت کے مابین تنازعہ اگرچہ پرانا ہے تاہم سن دو ہزار چار میں حوثی سیاسی اور جنگجو رہنما حسین بدرالدین الحوثی کے حامیوں اور حکومتی فورسز کے مابین مسلح تنازعات کے باعث ملک کے شمالی علاقوں میں سینکڑوں افراد مارے گئے تھے۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں اس تنازعے میں شدت پیدا ہو گئی تھی۔ حوثی رہنما سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے۔

جرمنی کے شہر بون میں قائم ہتھیاروں سے متعلق بین الاقوامی مرکز BICC کے سیاسی امور کے ماہر اور امن پر تحقیق کرنے والے محقق ماکس مُچلر کہتے ہیں، ’’ہتھیاروں کے ایسے تجارتی سودوں میں ایک لازمی شق ہمیشہ اس امر کی تصدیق کرنا ہوتی ہے کہ یہ درآمدی ہتھیار کسی تیسرے فریق کو مہیا نہیں کیے جائیں گے۔‘‘ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات اور یمنی ملیشیا گروہوں کے معاملے میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ایسا تجارتی معاہدوں میں شامل ضمانت ناموں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا گیا۔

ماکس مُچلر کہتے ہیں کہ اگرچہ ایسا کرنا ہتھیاروں کے کسی بھی تجارتی معاہدے کی شرائط کے منافی ہے، پھر بھی گزشتہ کئی برسوں سے ایسی کسی خلاف ورزی کے بعد درآمد کنندہ ملک کے خلاف کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے کہ درآمدی ہتھیار ایسی حکومتوں کو بیچے گئے، جنہوں نے انہیں آگے کسی اور کے حوالے کر دیا اور ان کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں ہوئی۔ یہ سب کچھ اسلحے کی تجارت کی نگرانی کے نظام میں کمزوریوں کا عکاس ہے۔‘‘

یمن میں خانہ جنگی کے آغاز سے لے کر آج تک مغربی ممالک نے صرف متحدہ عرب امارات کو ہی کم از کم ساڑھے تین ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار مہیا کیے ہیں۔ عرب دنیا کی غریب ترین ریاست یمن میں مارچ دو ہزار پندرہ سے ایک ایسی جنگ جاری ہے، جس میں ایک طرف اگر ایران نواز حوثی باغیوں کی شیعہ ملیشیا ہے تو دوسری طرف ملکی صدر منصور ہادی کی حامی عسکری قوتیں۔

یمن: تین لاکھ سے زائد بچوں کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا
اقوام متحدہ کے مطابق جنگ کی وجہ سے یمن میں پانچ لاکھ بچوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے اور ان میں سے تین لاکھ ستر ہزار بچے شدید بھوک کے شکار ہیں۔

یہ معاملہ اب تک بالواسطہ طور پر ایک علاقائی مسئلہ اس طرح بن چکا ہے کہ یمنی صدر منصور ہادی کی حامی فورسز کو سعودی عرب کی قیادت اور کئی عرب ریاستوں کی عملی حمایت کی صورت میں ایک ایسے عسکری اتحاد کا تعاون بھی حاصل ہے، جو برسوں سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملے بھی کر رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق یمنی جنگ میں اب تک دس ہزار سے زائد انسان ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے ہزاروں عام شہری تھے۔

خالد اسماعیل اپنی بیٹی رضیہ کا دایاں ہاتھ چوم رہے ہیں۔ سترہ سالہ کینسر کی مریضہ کا بایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا تھا۔ اپنی جمع پونجی بیچنے اور ادھار لینے کے باجود خالد اس سے بہتر علاج کروانے کی سکت نہیں رکھتے، ’’جنگ نے ہماری زندگیاں تباہ کر دی ہیں۔ ہم بیرون ملک نہیں جا سکتے اور میری بیٹی کا مناسب علاج بھی نہیں ہوا۔‘‘

جرمنی مین اسلحہ سازی کی صنعت کے بڑے بین الاقوامی گاہکوں میں گزشتہ چند برسوں کے دوران متحدہ عرب امارات ایک اہم نام بن چکا ہے۔ پچھلے صرف تین برسوں کے دوران جرمن حکومت کی طرف سے اس خلیجی ریاست کو ہتھیاروں کی برآمد کے جن سمجھوتوں کی منظوری دی گئی، ان کی مجموعی مالیت 490 ملین یورو بنتی ہے۔

اس کے علاوہ سال 2017ء میں جرمنی نے اسلحے کی برآمدات کے کل 1.3 بلین یورو مالیت کے ایسے معاہدوں کی منظوری دی، جن کے نتیجے میں یہ ہتھیار ان ممالک کو فراہم کیے گئے، جو یمنی جنگ کے عسکری فریق بن چکے ہیں۔ گزشتہ برس یو اے ای کو جرمنی سے ہتھیاروں کی برآمد میں کافی کمی آئی، جس کا سبب مارچ 2018ء میں جرمنی میں طے پانے والا وہ مخلوط حکومتی معاہدہ تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ یمنی جنگ میں شریک ممالک کو، جب تک وہ ایسا کرتے رہیں گے، جرمنی سے کوئی ہتھیار برآمد نہیں کیے جائیں گے۔

BICC کے ماکس مُچلر نے مطالبہ کیا ہے کہ یمن کی جنگ کے فریق ممالک، خاص طور پر متجدہ عرب امارات کو مغربی دنیا کی طرف سے اسلحے کی برآمد پر پابندی لگائی جانا چاہیے۔ لیکن اس کے لیے اجتماعی سیاسی ارادے کی کمی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔

م‍زید یہ کہ اگر جرمنی میں موجودہ مخلوط حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کے مابین معاہدے میں یمنی جنگ کے فریق ممالک کو ہتھیار مہیا نہ کرنے کی شق شامل ہے بھی تو مجموعی طور پر یورپی ممالک میں ایسی کسی پابندی پر آمادگی کا فقدان ہے۔

Share this:
Missing People Protest
Previous Post اٹھائیس لاپتہ افراد کی بازیابی، لیکن کیا یہ کافی ہے؟
Next Post بلوچستان کے عوام کی ترقی خصوصاً نوجوانوں کو ہنر مند بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے: عمران خان
Imran Khan

Related Posts

Six Autumn Escapes in France You Can Reach Without a Car

فرانس میں بغیر گاڑی کے خزاں کی سیر: چھ خوبصورت مقامات جہاں پبلک ٹرانسپورٹ سے پہنچا جا سکتا ہے

October 17, 2026
The Spoon Revolution: Why a Growing Community Is Ditching the Fork

چمچ بمقابلہ کانٹا: کھانے کی میز پر خاموش انقلاب کیوں برپا ہے؟

October 17, 2026
Strasbourg to Deploy Airport-Style Security Scanners at Christmas Market for the First Time

اسٹراسبرگ کرسمس مارکیٹ میں پہلی بار سیکیورٹی گیٹ نصب کیے جائیں گے

October 17, 2026
Johannesburg Lions Lock Hyron Andrews Dies at 31 on Eve of Champions Cup Clash

جنوبی افریقی رگبی کھلاڑی ہائرون اینڈریوز فرانس کے ہوٹل میں انتقال کر گئے

October 17, 2026

Popular Posts

1 Vladimir Putin

امریکی میزائل تجربے کا جواب دیا جائے، پوٹن کی ہدایات

2 Imad Wasim

قومی کرکٹر عماد وسیم بھی رشتہ ازدواج میں منسلک

3 Meeting

انجینئر افتخار چودھری نے ریاٹرڈ جرنیل ڈاکٹر محمد مصطفی الجہنی سے ملاقات کی

4 Shah Mahmood Qureshi - António Guterres

شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے درمیان رابطہ طے پا گیا

5 Khamisani Socail Welfare Trust

محمد سلیم خمیسانی کا سیفی ویلفیئر سوسائٹی کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد

6 Indian Army in Kashmir

کرفیو اور لاک ڈاؤن کے باوجود ہزاروں کشمیریوں کا بھارت کیخلاف مظاہرہ

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.